ایران جوہری معاہدے سے متعلق تنصیب کیے گئے کیمرے فعال نہیں ہیں

تہران، ارنا- ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے متعلق کچھ کیمرے تنصیب کیے گئے تھے لیکن چونکہ دیگر فریقین اپنے وعدوں پر پورا نہیں اترا تو ان کیمروں کے فعال ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

"محمد اسلامی" نے آج بروز بدھ کو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے کمیشن کے اجلاس کی سائڈ لائن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس میں آئی اے ای اے کے سربراہ کے حالیہ دورہ ایران کی رپورٹ کو ممبران کمیشن کے سامنے پیش کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ ایران کی پُرامن جوہری سرگرمیاں، شفاف قوانین کے مطابق اور پابندیوں کی منسوخی سے متعلق اسٹریٹجک اقدامات اٹھانے کے تحت ہونی ہوں گی۔

اسلامی نے کہا کہ دشمن عناصر، ایران کی ترقی کو برداشت نہیں کریں گے اور مغربی ممالک جوہری معاہدے کے تحت ایران کی مدد کرنے کے پابند تھے لیکن انہوں نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جوہری شعبے میں جو کچھ حاصل کیا ہے وہ ملکی تحقیق اور ترقی پر مبنی ہے اور اسے کوئی نہیں روک سکتا۔

اسلامی نے کہا کہ ایک اہم مقصد، جو سپریم لیڈر کی حکمت عملی اور صدر کی ہدایات کے ایجنڈے میں شامل ہے وہ یہ ہے کہ فوری پلان میں ایٹمی بجلی گھروں کی بجلی کی حد کو 8000 میگاواٹ تک بڑھایا جائے تا کہ لوگ ایٹمی پروگرام کے اثرات دیکھ سکیں اور اس کے اثرات صحت، ماحول اور زراعت کے شعبوں میں بھی مرتب کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کے قوانین اور حفاظتی اقدامات کے مطابق، آئی اے ای اے کے کیمرے ایٹمی مقامات پر دستیاب ہیں اور جوہری عمل کے بارے میں علم اور آگاہی کا یہ تسلسل دنیا بھر میں ہوتا ہے۔

اسلامی نے کہا کہ ان ذمہ داریوں کے علاوہ جو ایران کی حفاظت کیلئے واجب الادا ہیں، جنہیں شفاف بنانا ہوگا۔ جوہری معاہدے سے متعلق کئی کیمرے تنصیب کیے گئے تھے، لیکن دوسری فریقین نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی اس لیے ان کیمروں کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha