ایران نے جوہری معاہدے کے نفاذ میں کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے؛ امریکہ پابندیوں کے نشے کو چھورڈے

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ ہم نے جوہری معاہدے کے نفاذ میں کوئی کسر نہیں چھ۔وڑا ہے؛ لہذا امریکہ کو بغیر کسی تاخیر اور پیشگی شرط کے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں کیخلاف وزی کا جلد خاتمہ دینا چاہیے۔

"کاظم غریب آبادی" نے عالمی جوہری ادارے کے بورڈ آف گورنز کے تین ماہی اجلاس کے دوران، ایران میں جوہری معاہدے کے نفاذ کی صورتحال سمیت اس حوالے سے ایران کے موقف کی وضاحت کی۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران جوہری معاہدے سے علیحدہ ہوکر "زیادہ سے زیادہ دباؤ" کی ناکام پالیسی پر عمل کیا اور ایران کیخلاف پابندیوں کا از سرنو آغاز کیا جس نے ایران کیساتھ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو معمول پر لانے پر براہ راست اور تباہ کن اثر ڈالا۔

غریب آبادی نے کہا کہ چونکہ پابندیوں کا خاتمہ اور جوہری معاہدے پر اس کے اثرات، اس معاہدے سے متعلق ایران کے اطمینان کی بنیاد ہیں تو امریکہ کیخلاف ورزیوں نے معاہدے کے اس حصے کو غیر موثر بنا دیا ہے۔اور بڑی افسوس کی بات ہے کہ ان خدشات کو یورپی یونین اور تین یورپی ممالک نے مناسب طریقے سے حل نہیں کیا تاکہ معاہدے کیخلاف ورزی کی تلافی کیلئے عملی حل تلاش کیے جائیں۔

 انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں خاص طور پر کچھ ممالک جو جوہری معاہدے کے رکن ہیں سمیت یورپی ممالک کے بیانات پر شدید افسوس اور حیرت کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے؛ گویا یہ ممالک بھول گئے ہیں کہ یہ ایران ہی تھا جس نے اس معاہدے کے تحت اپنی تمام ذمہ داریوں کو پورا کیا اور امریکہ کے قانون توڑنے والے اقدامات اور یورپیوں کی بے عملی کی وجہ سے اس کے فوائد سے لطف اندوز نہیں ہوا۔ بظاہر، یہ ممالک، متاثرین کو قانون کیخلاف ورزی کرنے والوں سے بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ یہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ کہ یورپی ممالک جوہری معاہدے سے امریکہ کی غیر قانونی اور یکطرفہ علیحدگی اور ایرانی عوام کیخلاف پابندیاں لگانے کی مذمت پر تیار نہیں ہیں بلکہ اس کے بجائے ایران سے جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تک ایران کیخلاف پابندیاں جاری رہیں ایران سے صبر کا مظاہرہ اور تعمیری کارروائی کی توقع نہ رکھیں۔ ہماری ایٹمی سرگرمیاں بشمول مختلف سطحوں پر افزودگی اور سلیکن ایندھن کی پیداوار جاری ہے جو عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت ہمارے حقوق کے برابر اور مکمل طور پر پُرامن ہیں اور عالمی جوہری ادارے کی طرف سے نگرانی اور تصدیق کی جاتی ہیں۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ لہذا، میں ان ممالک کو مشورہ دیتا ہوں کہ وہ عوام کو دھوکہ نہ دیں اور ایرانی قوم کیساتھ اپنی ادھوری ذمہ داریاں پوری کریں؛ ہم آپ کے مقروض نہیں ہیں۔

غریب آبادی نے کہا کہ جیسا کہ ہمارے صدر اور وزیر خارجہ نے کہا ہے ایران ایسے مذاکرات کا خواہاں ہے جو نتائج پر مبنی ہوں اور یہ ضروری ہے کہ ان کوششوں کا نتیجہ اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام پابندیاں مؤثر اور تصدیق کیساتھ ہٹائی جائیں اور ہم دوبارہ معاہدے سے امریکی علیحدگی یا جوہری معاہدے میں موجود میکنزم کا غلط استعمال اور اس کے تحت اس کی تمام ذمہ داریوں کی خلاف ورزی جیسے تباہ کن اقدامات کا مشاہدہ نہیں کریں۔

انہوں نے کہا کہ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا موجودہ امریکی انتظامیہ یکطرفہ جابرانہ کارروائی کی روک تھام،  ین الاقوامی قانون کا احترام، جامع اور موثر انداز میں پابندیاں اٹھانے کے اپنے وعدوں کو پورا کرنے اور ضروری مشکل فیصلے کرنے کیلئے کافی پُر عزم ہے یا کہ نہیں؟

غریب آبادی نے کہا کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ امریکہ بغیر کسی تاخیر یا پیشگی شرط کے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنا چھوڑ دے۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ ڈیٹا کی رجسٹریشن کو جاری رکھنے یا ختم کرنے کا ایران کی حفاظت کی ذمہ داریوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بلاشبہ اس سلسلے میں ایران کی طرف سے جو بھی فیصلہ کیا جائے گا وہ صرف سیاسی تحفظات پر مبنی ہوگا اور آئی اے ای اے کو اس میں کسی چیز مطالبہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

غریب آبادی نے کہا کہ ایٹمی ایجنسی صرف اپنے انسپکٹرز، آلات اور نگرانی پر توجہ مرکوز کرنے کی عادی ہے اور اپنے ارکان کی پُرامن سہولیات کیخلاف دہشتگردوں کی تخریب کاری سے متعلق اپنے فرائض اور ذمہ داریاں پوری نہیں کرتی۔

انہوں نے کہا کہ  یہ مسائل تب تک جاری رہیں گے جب تک آئی اے ای اے ان تضادات سے متعلق اپنا موقف واضح نہیں کرتی۔ عالمی ایٹمی ایجنسی کو اس پر واضح موقف اختیار کرنا ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha