ایران اور روس کے صدور کی جوہری مذاکرات پر بات چیت

ماسکو، ارنا- ایران اور روس کے صدور علامہ "سید ابراہیم رئیسی" اور "ولادیمیر پیوٹین" نے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، جوہری معاہدے سمیت کورونا وائرس کیخلاف مقابلہ کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

کریملن ترجمان کے مطابق، اس ٹیلی فونک رابطے کے دوران، دونوں فریقین نے مذاکرات اور باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیا۔

کریملن کے ترجمان نے 17 ستمبر کو میں منعقد ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں بطور مبصر کے ایرانی صدر کی شرکت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس تنظیم کے فریم ورک کے اندر دیگر موضوعات پر بھی بات چیت کی گئی۔

نیز ان مذاکرات میں مختلف شعبوں میں ایران روس کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی باہمی خواہش پر زور دیا گیا اور خاص طور پر، تجارتی اور معاشی تعلقات کی ترقی اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے میں مضبوط تعاون پر توجہ دی گئی۔

اس کے علاوہ اس گفتگو کے دوران، ایران کے ایٹمی پروگرام پر جامع مشترکہ ایکشن پلان کی حیثیت سمیت بین الاقوامی ایجنڈے پر کئی امور زیر بحث آئے۔

کریملن کے ترجمان نے پہلے کہا تھا کہ تاجکستان میں منعقد ہونے والی دو طرفہ  ملاقاتیں بشمول روسی صدر کی ایرانی صدر سے ملاقات ملتوی کر دی گئی ہیں۔

کریملن پریس آفس نے منگل کو ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ ولادیمیر پیوٹین کو اپنے ارد گرد کے لوگوں میں کووڈ- 19 بیماری کی نشاندہی کرنے کیلئے قرنطین کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا۔

کریملن کے ترجمان نے کہا کہ اسی وجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں جو پوٹین، تاجکستان میں منعقد کرنے والی تھیں، بشمول ایران کے صدر سے ملاقات، کسی اور موقع کیلئے ملتوی کر دی گئیں۔

کریملن کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے اپنے تاجک ہم منصب سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، اس موضوع کا انہیں اعلان کردیا۔

اس بات کے پیش نظر، پیوٹن اس ہفتے کے دوران، دوشنبہ میں منعقدہ ہونے والے اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کے اجلاس اور شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں ورچوئل شرکت کریں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha