یورپ کو منشیات کی ترسیل کے خلاف جنگ کی قیمت کا کچھ حصہ ادا کرنا ہوگا: ایرانی عہدیدار

 تہران، ارنا - ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے سربراہ نے کہا ہے کہ  افغانستان کی سرحدوں سے یورپ تک منشیات کی ترسیل نے ہمارے ملک پر بہت زیادہ اخراجات عائد کیے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ یورپی یونین کے ممالک اس حوالے سے زیادہ موثر اور فعال کردار ادا کریں اور اخراجات کا کچھ حصہ ادا کریں۔

 یہ بات وحید جلال زادہ نے آج بروز بدھ ڈنمارکی سفیر 'یسپر وار' کے ساتھ  ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

 انہوں نےایران اور ڈنمارک کے درمیان دیرینہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی اور اقتصادی روابط کے پس منظر نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کو مضبوط کیا ہے۔

پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین نے پارلیمانی تعلقات کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ ہم ڈنمارک کی پارلیمنٹ کے ساتھ تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے پر تیار ہیں۔

انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمانوں میں دوستی پارلیمانی گروپوں کی تشکیل دوسرے شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

جلال زادہ نے مزید کہا کہ خصوصی کمیشنوں کے مابین مسلسل بات چیت تعلقات کے فروغ اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی سہولت کا باعث بنے گی۔

ایرانی عہدیدار نے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی اور تجارتی روابط کی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک میں معاشی اور صنعتی صلاحیتوں کا مناسب استعمال اور منصوبہ بندی دونوں قوموں کے معاشی مفادات کو یقینی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

مشرق وسطیٰ بالخصوص افغانستان کی تبدیلیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت افغانستان میں ہمیشہ دو اہم مسائل رہے ہیں جو اس ملک میں عدم تحفظ کا باعث بنے ہیں۔

جلال زادہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی ہمیشہ  غیرعلاقائی ممالک کی مداخلت کے بغیر خطے میں استحکام اور امن قائم کرنا ہے اور تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ عراق اور افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی ان ممالک میں عدم تحفظ، بحران اور دہشت گردی کے فروغ کا باعث بنی ہے

انہوں نے دہشتگردی، انتہا پسندی اور یورپ میں مقیم دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کے لیے مشترکہ سلامتی اور انٹیلی جنس کے تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس موقع پر ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ ڈینش اور ایرانی پارلیمنٹ کے درمیان اچھے پارلیمانی تعلقات ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ مستقبل میں پارلیمانی مذاکرات کو فروغ دیا جائے گا۔

انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی روابط کی کمی کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد پابندیوں کے باوجود ڈنمارک کی حکومت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ڈنمارک جوہری معاہدے کو زندہ کرنے کا خواہاں ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha