ایران سے تعلقات کے روشن مستقبل پر کافی پُر امید ہوں: نکاراگوا کے وزیر خارجہ

تہران، ارنا- نکاراگوا کے وزیر خارجہ نے دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات سے متعلق ایرانی صدر کی مثبت نگاہ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران سے تعلقات کے روشن مستقبل پر کافی پُر امید ہیں۔

ان خیالات کا اظہار، ایرانی صدر علامہ سید ابراہیم رئیسی کی تقریب حلف برداری میں حصہ لینے کیلئے تہران کے دورے پر آئے ہوئے "دنیس مونکادا "نے ارنا نمائندوں کیساتھ ایک خصوصی انٹرویو کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے دونوں ممالک اور دو قوموں کے درمیان ہمدردی، یکجہتی اور مشترکہ احساس کی علامت کے طور ایران (اسلامی انقلاب) اور 1979ء میں نکاراگوا میں بیک وقت دو انقلابات کی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایران کیساتھ تعلقات کو بڑی امید کیساتھ دیکھتے ہیں؛ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات سے متعلق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر علامہ رئیسی کے بیانات کے پیش نظر، ہم ایران اور نکاراگوا کے درمیان دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کے روشن مستقبل پر کافی پُر امید ہیں۔

دنیس مونکادا نے تقریب حلف برداری کی سائڈ لائن میں علامہ رئیسی کیساتھ اپنی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس ملاقات میں علامہ رئیسی کی نئی حکومت کیساتھ دونوں ممالک کے درمیان دوستی اور تعاون کے تاریخی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اپنی حکومت کا پیغام پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ علامہ رئیسی نے بھی انتہائی مخلصانہ اور دوستانہ انداز میں آزادی، خودمختاری اور خود ارادیت کے دفاع سمیت نکاراگوا اور عالمی برادری کے دیگر ممالک کیخلاف امریکہ اور دیگر یورپی حکومتوں اور جارحانہ اقدامات کے خلاف لڑائی میں نکاراگوا کی حکومت کے اہم کردار پر زور دیا۔

دنیس مونکادا نے مزید کہا کہ ایران کے صدر نے دونوں ممالک کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنے اور معاہدوں پر عمل کرنے کے لیے ایک گروپ بنانے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا۔

ایران سے تعلقات کے روشن مستقبل پر کافی پُر امید ہوں: نکاراگوا کے وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ ایران اور نکاراگوا میں 1979 میں دو مختلف لیکن بیک وقت انقلابات وقوع پذیر ہوئے؛ ان تاریخی واقعات، بقائے باہمی، ہمدردی، یکجہتی، باہمی شناخت اور بین الاقوامی میدان میں اپنے اصولوں اور اقدار کے دفاع میں مشترکہ احساس پیدا کرتے ہیں؛ یہ دونوں ممالک کے درمیان جارحیت کی شرائط کیخلاف دفاعی پوزیشنوں میں بین الاقوامی تنظیموں میں تعاون کے فروغ کا باعث بنتا ہے؛ اس لیے ہم دونوں ممالک کے تعلقات کے مستقبل کے بارے میں پُرامید ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، علامہ رئیسی نے بدھ کے روز ایران کے دروے پر آئے ہوئے نکاراگوا کے ویر خارجہ سے کے ایک ملاقات کے دوران، اس بات پر زور دیا کہ نکاراگوا کے انقلاب کا نام ایرانی عوام کے لیے ہمیشہ ایک جانا پہچانا نام رہا ہے اور نوجوانوں میں انقلابی جذبہ ابلنا؛ قومی آزادی کی حمایت ہے۔

انہوں نےکہا کہ امریکی ناجائز لالچ کیخلاف مزاحمت نے نکاراگوا  کو لاطینی امریکی ممالک اور خطے میں سامراجیت کیخلاف تحریکوں کا ایک ماڈل بنا دیا ہے۔

اس موقع پرعلامہ رئیسی نے کہا کہ ایرانی عوام نے ہمیشہ نیکاراگوا کی انقلابی قوم کی کامیابی اور فتح کی خواہش کی ہے اور جیسا کہ اسلامی انقلاب کے سپریم لیڈر نے زور دیا ہے، انقلابی روح بالخصوص نوجوان نسل میں ہمیشہ زندہ اور اچھی رہنی ہوگی لہذا نکاراگوا انقلاب کے رہنماؤں کو عوام بالخصوص نوجوانوں کے  درمیان وقت گرزنے سے انقلابی جذبے کو ٹھنڈا کرنے کی اجازت نہیں دینی ہوگی۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ البتہ باہمی تعلقات کی حالیہ سطح قابل قبول نہیں ہے اور دونوں ممالک کی صلاحیتوں کے سنجیدہ جائزے سے تعلقات کے فروغ کی راہ میں بڑے بڑے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha