صہیونی ریاست سے تعلقات کو معمول پر لانے کا منصوبہ شکست کھا چکا ہے: ایڈمیرل شمخانی

تہران، ارنا- ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے صہیونی قبضے کو مضبوط اور وسعت دینے والے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے  بعض عرب ممالک کی طرف سے اس  ریاست کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے شیطانی منصوبے پر عمل کو ایک ناکام قدم سمجھا۔

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل "علی شمخانی" نے آج بروز ہفتے کو "زیاد النخالہ" اور "اسماعیل ہنیہ" کیساتھ ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقہ پر انہوں نے "سیف القدس" کاروائی میں اسلامی مزاحمتی فرنٹ کی کامیابیوں پر مبارکباد دیتے ہوئے جہاد اسلامی کی تحریک اور حماس کے صہیونی ریاست کی شکست میں کلیدی کردار  ادا کرنے کا شکریہ ادا کیا۔

ایرانی کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے صہیونی قابضین کے چنگل سے مقدس قدس کو آزاد کرانے کے لیے فلسطینی عوام کی 70 سال سے زیادہ مزاحمت اور جہاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آج فلسطینی نوجوانوں کی نئی نسل ماضی کی نسلوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور متحرک ہو گئے ہیں تاکہ صہیونی ریاست کے تسلط کیخلاف مزاحمت کر سکیں۔

ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ آگ کا حجم، میزائلوں کی رینج  اور حماس اور اسلامی جہاد کی حکمت عملی کی صلاحیت، مختلف راڈار سسٹمز اور آئرن ڈوم سے گزرنے نے صیہونی ریاست کی ناقابل تسخیر سوچ کو باطل کر دیا ہے۔

انہوں نے صہیونی قبضے کو مضبوط اور وسعت دینے والے کسی بھی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے  بعض عرب ممالک کی طرف سے اس  ریاست کیساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے شیطانی منصوبے پر عمل کو ایک ناکام قدم سمجھا۔

انہوں نے کہا کہ  گر مزاحمت کے تمام حلقے فلسطین اور القدس کے ارمان کیلئے متحد ہو جائیں تو اس جعلی حکومت کے خاتمہ کو مستقبل قریب میں دیکھا جا سکتا ہے۔

شمخانی نے کہا کہ صہیونی ریاست اپنے مذموم عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے فوجی ٹولز استعمال کرنے کے علاوہ سائبر اسپیس کو نفسیاتی جنگ اور مزاحمت کے درمیان تقسیم کے لیے بھی استعمال کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی دشمن کے سافٹ وئیر اقدامات کو ناکام بنانے کیلئے اسلامی مزاحمت کو اس میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا جبکہ مزاحمتی قوتوں کے ہم آہنگی کو برقرار اور مضبوط بناتے ہوئے صیہونی حکومت کے سیاسی، سلامتی اور سماجی حقائق کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha