ایران پابندیوں کی منسوخی پر ہر کسی سفارتی منصوبے کی حمایت کرے گا: علامہ رئیسی

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے کہا کہ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی ایرانی قوم کو اپنے قانونی حقوق بشمول ترقی کے حق کے حصول سے نہیں روک سکے گی اور ایران پابندیوں کو ختم کرنے کے کسی بھی سفارتی منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار علامہ سید ابراہیم رئیسی نے آج بروز جمعرات مطابق 5 آگست کو حلف اٹھانے کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس تقریب میں حصہ لینے والے تمام ملکی اور غیر ملکی مہمانوں کی خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ عوامی طاقت میں قومی طاقت کے تمام اجزاء مضبوط ہوتے ہیں اور ہم اسلامی طاقت کے تمام ٹولز بشمول سفارت کاری اور دنیا کے ساتھ ذہین تعامل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مفادات کو محفوظ بنانے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ایرانی طاقت، خطے میں قیام سلامتی کو برقرار رکھتی ہے اور ایران کی علاقائی صلاحیتیں دیگر ممالک میں قیام امن اور استحکام کی حامی ہیں اور صرف جابر اور تسلط پسند طاقتوں کیخلاف استعمال ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ علاقائی بحرانوں کو خطی ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے اور اقوام کے حقوق کو یقینی بنانے کی بنیاد پر حل کیا جانا ہوگا اور خطے میں غیر ملکی مداخلت نہ صرف کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کرسکتی بلکہ یہ خود بھی ایک مسئلہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ میں خطے کے تمام ممالک بالخصوص پڑوسیوں کے سامنے دوستی اور بھائی چارے کا ہاتھ بڑھاتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ڈپلومیسی کو خطے کی قوموں کے درمیان رابطے کو بڑھانا ہوگا اور معاشیات، ثقافت، سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ان کی مشترکات کو مضبوط بنانا ہوگا۔

علامہ رئیسی نے کہا کہ دنیا بدل رہی ہے اور قوموں کے مفادات نئی دنیا کو سمجھنے اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کیساتھ اسٹریٹجک بات چیت پر منحصر ہیں لہذا ایک کامیاب خارجہ پالیسی، متوازن خارجہ پالیسی ہوگی۔

انہوں نے ایران جوہری منصوبوں کے پُرامن ہونے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت ایٹمی ہتھیاروں کو سپریم لیڈر کے فتوے کے مطابق منع کرتی ہے اور اس ہتھیار کی ایران کی دفاعی حکمت عملی میں کوئی جگہ نہیں ہے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی ایرانی قوم کو اپنے قانونی حقوق بشمول ترقی کے حق کے حصول سے نہیں روک سکے گی اور ایران پابندیوں کو ختم کرنے کے کسی بھی سفارتی منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کیخلاف پابندیوں کو اٹھایا جانا چاہیے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس مقصد کے حصول کیلئے ہر کسی سفارتی منصوبے کی حمایت کرتا ہے۔

علامہ رئیسی نے تیرہویں حکومت کی خارجہ پالیسی کی اہم ترجیح کو ہمسایہ ممالک سے تعلقات کا فروغ قرار دے دیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تیرہویں حکومت ایک عوامی حکومت ہے اور عوامی حکومت میں سیاسی دھڑے، نسلی، مذہبی اور گروہی تقسیم ختم ہو جاتی ہے اور تمام لوگ اسلامی جمہوریہ کے مقدس جھنڈے کے نیچے ایک مضبوط ایران کے حصول کے لیے ہاتھ ملاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ ہم انسانی حقوق کے حقیقی محافظ ہیں؛ ہم ظلم اور جرائم اور معصوم اور بے دفاع انسانوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف خاموشی کو قبول نہیں کرتے ہیں اور ان کا اور مسترد کرتے ہیں؛ ظلم اور جرم، چاہے یورپ کے دل میں ہو یا امریکہ، افریقہ، یمن، شام اور فلسطین میں ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha