ایران اپنی تیل کی پیداوار اور برآمدات پر کسی قسم کی پابندیوں کا تسلیم نہیں کرے گا

لندن، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے کہا ہے کہ ایران، اوپیک تنظیم کا ایک فعال ممبر ہے اور رہے گا اورہ م صورتحال معمول پر لانے سے اپنی تیل کی پیداوار اور برآمدات پر کسی بھی قسم کی پابندیوں کو نہیں مانتے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار "کاظم غریب آبادی" نے آج برورز جمعرات کو ایک ٹوئٹر پیغام میں کیا اور کہا کہ یہ ایک قومی فیصلہ ہوگا اور مشترکہ کوششوں کے ذریعے کیے گئے فیصلہ نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ اس سے پہلے ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعنیات روسی مندوب نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ پابندیوں کی منسوخی سے ایران بھی تیل کی مارکیٹ میں استحکام لانے کی کوششوں میں شریک ہوجائے۔

"میخاییل اولیانوف" نے کہا کہ ایران اپنی تیل کی برآمدات کو بحال کرنے کے بعد عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے اوپیک پلس کے اقدامات میں شریک ہوتا ہے۔

انہوں نے غریب آبادی کے ٹوئٹر پیغام کے رد عمل میں کہا کہ "ایک اہم پیغام؛ ہمیں امید ہے کہ ایران  کیخلاف پابندیوں کی منسوخی اور ملک کی تیل کی برآمدات کی بحالی کے بعد، تہران اوپیک پلس کی عالمی تیل مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں میں شامل ہو جائے گا۔"

غریب آباد نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں کہا تھا کہ ایرانی صدر علامہ رئیسی نے اویپک سیکرٹری جنرل "محمد سانوسی بارکیندو" کے مبارکبادی پیغام کے جواب میں گذشتہ دو سالوں کے دوران، تیل کی عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے اس تنظیم کے سیکرٹریٹ کا شکریہ ادا کیا اور ان کی اور ان کے ساتھیوں کی کامیابی کی خواہش کی۔

واضح رہے اوپیک پلس 23 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں اوپیک کے ارکان اور غیر اوپیک تیل پیدا کرنے والے شامل ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha