ایران اور پاکستان کے تعلقات لازوال ہیں: علامہ رئیسی

تہران، ارنا- علامہ سید ابراہیم رئیسی نے تہران اور اسلام آباد کے درمیان لازوال تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیتوں کی نشاندہی اور ان کو دونوں ممالک کے مفادات کی فراہمی کے سلسلے میں بروئے کار لانا ہوگا۔

رپورٹ کے مطابق، علامہ رئیسی، ایران کے دورے پر آئے ہوئے پاکستانی سینیٹ کے چیئرمین "محمد صادق سنجرانی" سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے تعلقات، دو ہمسایہ ممالک کے تعلقات سے کہیں زیادہ آگے ہیں؛ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مذہبی اور ثقافتی عقائد پر مبنی ہیں جو لازوال ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی سطح کو اس سے مزید بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہم باہمی تعلقات کی تقویت کے نئے طریقے نکال سکتے ہیں۔

علامہ رئیسی نے اس بات پرزور دیا کہ ہمیں باہمی تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے کی صلاحیتوں کی نشاندہی اور ان کو دونوں ممالک کے مفادات کی فراہمی کے سلسلے میں بروئے کار لانا ہوگا۔

انہوں نے ایران اور پاکستان کے پارلیمانی تعلقات کی اہمیت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کی پارلیمنٹس، تعلقات کی توسیع کی راہ میں تعمیری کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ایرانی صدر نے افغانستان میں حالیہ کشیدگی اور بدامنی پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں قیام امن کی بحالی کیلئے ایران اور پاکستان کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغان عوام کی صورتحال تشویشناک ہے اور ہمیں مشترکہ تعاون سے افغان عوام کی دکھ درد اور مزید نقصانات سے نمٹنے کی کوشش کرنی ہوگی۔

علامہ رئیسی نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی کونے میں امریکی موجودگی نہ صرف فائدہ مند ہے بلکہ وہاں مزید مشکلات بھی رونما ہوتی ہیں لہذا افغانستان کے مستقبل کا تعین بغیر کسی بیرونی مداخلت اور خود افغان عوام ہی کریں گے اوریہ صرف اور صرف پُرامن مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔

دراین اثنا محمد صادق سنجرانی نے وزیر اعظم پاکستان کیجانب سے علامہر ئیسی کو صدرات کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکبادی پیغام کا حوالہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور پاکستان کے درمیان تعلقات دوستانہ اور برادرانہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ آپ کی دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کی مثبت نگاہ سے ایران اور پاکستان کے تعاون کی سطح میں قابل قدر اضافہ ہوگا۔

سنجرانی نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق امریکی بے بسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ بہت سارے علاقوں میں بدامنی پھیلانے کی جڑ ہے اور ہم خطے کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر علاقے میں قیام امن اوراستحکام کے سلسلے میں آپ سے خطے کے اسلامی ممالک کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha