پڑوسی ممالک سے تعلقات کا فروغ ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں ہے: علامہ رئیسی

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے پڑوسی ممالک سے تعلقات کے فروغ کو ایران کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست قرار دے دیا اور کہا کہ ہمیں ایران اور ازبکستان کے درمیان تعاون کی مضبوطی سے دونوں قوموں کی خوشحالی اور امن کی فراہمی کرنی ہوگی۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز بدھ کو ازبکستان کی سپریم قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر "نورالدین جان اسماعیل اف" سے ایک ملاقات کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان بہت زیادہ تاریخی اور ثقافتی مشترکات ہیں اور مختلف شعبوں بالخصوص اقتصادی میدان میں باہمی تعلقات کی تقویت کیلئے ایران اور ازبکستان کے درمیان بے پناہ صلاحتیں ہیں؛ ہمیں اپنی قوموں کے مفادات کی فراہمی میں ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں دلچسبی ہے۔

علامہ رئیسی نے دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے جلد نفاذ پر زوردیتے ہوئے کہا کہ ہمیں  ایران اور ازبکستان کے درمیان تعاون کی مضبوطی سے دونوں قوموں کی خوشحالی اور امن کی فراہمی کرنی ہوگی۔

انہوں نے دونوں ممالک کی پارلیمنٹس کے درمیان قریبی تعلقات اور تعاون کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی تعاون، دونوں ملکوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کے نفاذ میں موثر اور تعمیری کردار ادا کرسکتا ہے۔

دراین اثنا نورالدین جان اسماعیل اف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک تمام شعبوں میں ایران سے تعلقات کے فروغ میں دلچسبی رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمانی تعاون کی توسیع کو نہ صرف معاشی بلکہ ثقافتی اور سائنسی شعبوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی ترقی اور مضبوطی کے لیے موثر سمجھتے ہیں اور ہم اس عمل کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha