مشترکہ تہذیب کی بنیاد پر ایران اور تاجکستان کے تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا: ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے تہران اور دوشنبہ کے درمیان تعلقات کو دو ممالک کے معمول تعلقات سے کہیں زیادہ آگے قرار دے کر اس بات پر زور دیا کہ ہمیں تہذیبی اور ثقافتی تعلقات کی تاریخ کی بنیاد پر باہمی تعلقات کی تقویت پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ان خیالات کا اظہار  علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز بدھ کو ایران کے دورے پر آئے ہوئے " محمد طائر ذاکر زادہ" سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو دو ممالک کے معمول تعلقات سے کہیں زیادہ آگے قرار دے کر اس بات پر زور دیا کہ ہمیں تہذیبی اور ثقافتی تعلقات کی تاریخ کی بنیاد پر باہمی تعلقات کی تقویت پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے ہوں گے۔

ایرانی صدر نے، بحثیت تین فارسی زبان ملک کے ایران، تاجکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی تقویت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں حالیہ بدامنی کی جڑ اس ملک میں غیر ملکیوں کی مداخلت ہے اور یہ کسی کے مفادات میں نہیں ہے؛ لہذا ایران اور تاجکستان کے درمیان ان مشترکہ خدشات سے نمٹنے کیلئے باہمی اور بین الاقوامی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

دراین اثنا تاجک اسپیکر نے کہا کہ ایران اور تاجکستان کے تعلقات، مشترکہ دین، زبان، ثقافت، تاریخ اور تہذیب پر مبنی ہے اور ان کو مزید فروغ دینے کی بے پناہ صلاحتیں ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha