ہمیں اپنی قوموں کے مفادات کیلئے باہمی تعلقات کو فعال کرنا ہوگا: علامہ رئیسی

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے بوسنیا اور ہرزگووینا کی خاتون وزیر خارجہ سے ایک ملاقات کے دوران، اس بات پر زور دیا کہ ایرانی پالیسیوں کی بنیادی اصولوں میں سے ایک دیگر ملکوں کی قومی سالیمت کی حمایت اور مظلوم قوموں کا دفاع ہے۔

ان خیالات کا اظہار "علامہ سید ابراہیم رئیسی" نے منگل کی رات کو ایران کے دورے پر آئی ہوئی بوسنیا و ہرزگووینا کی خاتون وزیر خارجہ "بیسرا تورکویچ" سے ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

علامہ رئیسی نے اسلامی جمہوریہ ایران اور بوسنیا اور ہرزیگووینا کے درمیان گہرے اور دوستانہ تعلقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعامل اور معاشی تبادلے کا وسیع میدان ہے اور ہمیں ان صلاحیتوں کی نشاندہی کرنی ہوگی اور انہیں اپنی قوموں کے مفادات کے لیے فعال کرنا ہوگا۔

ایرانی صدر نے کہا کہ بڑی افسوس کی بات ہے کہ آج دنیا میں جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان میں سے بہت سے انسانی حقوق کے خلاف ہیں اور یہ کارروائیاں بنیادی طور پر وہ لوگ کرتے ہیں جو ظاہری طور پر انسانی حقوق کے دعویدار ہیں۔

در این اثنا بیسرا تورکویچ نے کہا ہم بدستور اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف اور حمایتوں کے مشکور ہیں اور تہران سے اپنے تعلقات کی سطح کو بڑھانے پر تیار ہیں۔

بوسنیا و ہرزگووینا کی خاتون وزیر خارجہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ان کا ملک بین الاقوامی سطح پر ایران کیساتھ کھڑا ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران کا حامی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha