ایران میں قابل تجدید بجلی گھروں کی صلاحیت میں 171 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا

تہران، ارنا- نائب ایرانی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ پچھلے 4 سالوں کے دوران، ملک میں قابل تجدید بجلی گھروں کی صلاحیت میں 171 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے اور 903 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "محمد ساتکین" نے آج بروز منگل کو صوبائی پانی اور بجلی کمپنیوں کے ڈپٹی اور سی ای او کی کونسل کے آخری اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابل تجدید توانائی اور بجلی کی پیداوار کی تنظیم، توانائی اور بجلی کے شعبے کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں قدرے تاخیر میں قابل تجدید توانائی کی تنظیموں میں شامل ہوگئے ہیں تا ہم اس نے اپنے کردار کو اچھی طرح سے ادا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔

ساتکین نے کہا کہ بارہویں حکومت کے آغاز میں قابل تجدید بجلی گھروں کی صلاحیت تقریبا 332 میگاواٹ تھی جو اب 903 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے اور جولائی تک اس میں 171 فیصد کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لیکن اس عمل میں سولر توانائی کے میدان میں مزید تیزی نظر آئی ہے جس نے قابل تجدید توانائی کی دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ترقی کی ہے۔

 نائب ایرانی وزیر توانائی نے کہا کہ 2016 میں قابل تجدید بجلی گھروں کی سب سے زیادہ نصب شدہ رقم 191 میگاواٹ کی صلاحیت والے ونڈ پاور پلانٹس سے تعلق رکھتی ہے اور اب تک اس صلاحیت 309 میگاواٹ تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے سولر پاور پلانٹس کی صلاحیت 30 میگاواٹ سے بڑھ کر 384 میگاواٹ کرنے کا اعلان کیا اور اسے قابل تجدید پاور پلانٹس کے ترقیاتی نقطہ نظر کی عکاس سمجھا۔

ساتکین نے کہا کہ ہمارے ملک کے حالات کی وجہ سے ہم نے قابل تجدید توانائی کے دیگر ذرائع کے مقابلے میں شمسی صلاحیت کو بہتر استعمال کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  قابل تجدید پاور پلانٹس کی ترقی کا تنوع ظاہر کرتا ہے کہ ہم ان پاور پلانٹس کی مکمل ترقی کی صلاحیت کوخاص طور پر شمسی اور ہوا اور یہاں تک کہ بائیوما، گرمی کے نقصان کی بحالی، چھوٹے پن بجلی اور توسیعی ٹربائن کے شعبوں میں اچھی طرح استعال کرسکتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha