مغربی بحر ہند میں ماہی گیری کا سب سے بڑا بیڑا ایران کے پاس ہے

تہران، ارنا -  ایران کی فیشرز اتھارٹی کے سربراہ  نے کہا ہے کہ غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے غیر ملکی ماہی گیری کی ترقی ایک ترجیح ہے اور ایران بحر ہند میں ماہی گیری کے بیڑے اور ماہی گیری کے حجم کے لحاظ سے دوسرے اور مغربی بحر ہند میں پہلے نمبر پر ہے .

یہ بات نبی اللہ خون میرزایی نے اتوار کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے غیر ملکی ماہی گیری کے بارے میں کہا کہ 1392 میں ملک کی کل ماہی گیری کا حجم تقریبا 514 ہزار ٹن تھا ، جو 1392میں یہ مقدار تقریبا 700 ہزار ٹن تک پہنچ گئی تھی جن میں سے بیشتر غیر ملکی ماہی گیری ہے جو کہ زیادہ تر بحر ہند سے ہے۔

خون میرزایی نے کہا کہ حالیہ برسوں میں ، ماہی گیری کے شعبے میں بے مثال اقدامات بشمول سرمایہ کاری کی گئی ہے تاکہ ملک کے ماہی گیری شعبے میں اوسط سرمایہ کاری دگنی ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ فی الحال 11 ہزار ماہی گیری کی کشتیوں کے ساتھ 140 ہزار سے زائد لوگ فشری اور ماہی گیری کے شعبے میں کام کر رہے ہیں۔

انہوںنے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود خوراک کی حفاظت جہاد زراعت کی ذمہ داری ہے اور ایسا لگتا ہے کہ دیگر متعلقہ ایجنسیوں اور تنظیموں کو ایرانی فشریز آرگنائزیشن کے ساتھ غیر ملکی ماہی گیری اور سمندری جانوروں کی پیداورای کی ترقی اور اس شعبے میں سرمایہ کاری میں اضافہ کرنے میں تعاون کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ 1392 کو ملک میں فشری پروڈکٹ کی شرح 885 ہزار ٹن سے بڑھ کر 1399 میں 1 ملین اور 222 ہزار ٹن سے زیادہ تک پہنچ گئی ہے۔ تاکہ ملک میں کیکڑے کی پیداوار چار گنی اور اسٹرجن کی پیداوار 12 گنی ہوگئی ہے۔

اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha