کئی ایرانی بینکوں کیخلاف بحرین کے بے بنیاد الزامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے

تہران، ارنا- ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے بحرین کی سپریم کرمنل کورٹ کیجانب سے مرکزی بینک سمیت ملک کے کئی دیگر بینکوں کیخلاف اٹھائے گئے اقدامات کے رد عمل میں کہا کہ ایران کے پاس ان مجرمانہ الزامات کا دائر کرنا، ان کا جائزہ لینا اور ان مقدمات میں فیصلے جاری کرنے کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سعید خطیب زادہ" نے آج بروز اتوار کو صحافیوں کے اس مسئلے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ان اقدامات کی شدت سے مذمت کرتے ہوئے بحرین میں مرکزی بینک اور ایرانی بینکوں سے منسوب اقدامات کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی بینک، ایرانی افراد اور بینکوں کیخلاف بحرین کی عدالتوں میں عدالتی عمل اس قدر مسخ شدہ ہے کہ ہمارے پاس میڈیا کے بعض ذرائع کے علاوہ مقدمات کی تفصیلات جاننے کا کوئی سرکاری اور قابل اعتماد ذریعہ نہیں ہے اس لیے اس حوالے سے کوئی بھی اعلان میڈیا میں شائع ہونے والی خبروں پر مبنی ہوتا ہے۔

خطیب زادہ نے کہا کہ ان مقدمات کو دائر کرنے اور مرکزی بینک، صادارت اور ملی بینکوں اور ان بینکوں کے کچھ مینیجرز کیخلاف بے بنیاد الزامات اور دعوے کرنے کا عمومی مقصد سیاسی ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بظاہر، ان معاملات میں بحرینی عدالت، محض بحرین کے سیاسی اور سیکورٹی آلات کے احکامات اور فیصلوں پرعملدرآمد کرنے والی ہے؛ نیز ان کیسز میں منصفانہ مقدمہ سنانے سے متعلق عدالتی معیارات کا فقدان ہے اور ایرانی فریق کو اس کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے اور عدالتی عمل مبہم اور مسخ کیا گیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ظاہر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران بحرین کے اس طرح کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام قومی اور بین الاقوامی ذرائع استعمال کرنے کا اپنا حق محفوظ رکھتا ہے اور اپنے شہریوں کے مفادات اور حقوق کے دفاع میں پیچھے نہیں ہٹے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha