جوہری معاہدے میں ایرانی پالیسی کے فریم ورک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی: رکن ایرانی مجلس

تہران، ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے رکن نے کہا ہے کہ ویانا مذاکرات نئی ایرانی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جاری رہیں گے لیکن ایرانی پالیسیوں کے فریم ورک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔  

یہ بات ابوالفضل عمویی نے جمعہ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ویانا مذاکرات نئی ایرانی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد جاری رہیں گے لیکن ایرانی پالیسیوں کے فریم ورک میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔  

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی راہ میں امریکہ رکاوٹ ہے اس لئے کہ امریکی حکام جو بیان دیتے ہیں تحریر میں اسے نہیں لاتے۔

ابوالفضل عموئی کا کہنا تھا کہ امریکی حکام نے بارہا اس کا اعتراف کیا کہ ایران پر زیادہ سے زیادہ دباو ڈالنے کی پالیسی ناکام ہوئی لیکن اس کے باوجود پابندیاں عائد کرنے کا سلسلہ جاری ہے اور کچھ دوسرے موضوعات کو بھی مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کا یکطرفہ انخلاء اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے منافی ہے۔

اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha