ایرانی اسپیکر ایک اعلی سطحی پارلیمانی وفد کی قیادت میں  دورہ شام پہنچ گئے

تہران، ارنا- ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر ایک اعلی سطحی پارلیمانی وفد کی قیادت میں آج بروز منگل کو دمشق کی بین الاقوامی ائیرپورٹ پہنچ گئے جہاں ان کے شامی ہم منصب نے ان کا استقبال کیا۔

تفصیلات کے مطابق، ایرانی اسپیکر، اس دورے کے دوران، شام کے اعلی حکام و نیز دونوں ممالک کے سرگرم اقتصادی اور معاشی کارکنوں سے ملاقات کر یں گے۔

"محمد باقر قالیباف" نے دمشق ائیرپورٹ پہنچنے پر اس دورے کے معاشی مقاصد کی نشاندہی کی اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے مابین ایک جامع معاہدہ، جنگ کے بعد، شام کی تعمیر نو اور اس ملک میں نجی اور سرکاری شعبے کی بہتر سرگرمیوں کی راہ ہموار کرے گا۔

اس معاشی اور تجارتی سفر کا اصل مقصد تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے اور کاروباری حلقوں اور تجارت کاروں کے مسائل کے حل کیلئے شام کی اقتصادی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہے۔

واضح رہے کہ اس دورے میں ایرانی پارلیمنٹ کے کمیشن برائے خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی "وحید جلال زادہ"، اس کمیشن کے ممبر "عباس گلرو"، بورڈ آف ڈائریکٹرز اینڈ ایجوکیشن کمیشن کے ممبر "مہدی شریفیان"، ایران شام پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے ممبر "روح اللہ نجابت" اور اسلامی مشاورتی اسمبلی کے بین الاقوامی امور کے ڈائریکٹر جنرل "حسین امیر عبد اللہیان" محمد باقر قالیباف کے ساتھ ہوں گے۔

خیال رہے اسلامی مشاورتی اسمبلی کے اسپیکر، شامی بحران کے بعد ملک کا دورہ کرنے والے اعلی ترین ایرانی حکام ہیں؛ اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن ایک دفعہ اور ترک وزیر داخلہ نے گزشتہ 2 سالوں کے دوران چار بار کیلئے شام کا دورہ کیا ہے، نیز چینی وزیر خارجہ نے تجارتی معاہدوں کے انعقاد کیلئے شام کا دورہ کیا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز کے دوران، روسی صدر کے خصوصی نمائندے نے شام کا دورہ کیا ہے اور  یہ تمام واقعات شام کے بحران کے بعد کے دور سے فائدہ اٹھانے اور معاشی فوائد حاصل کرنے کے لئے مختلف ممالک کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیںو

واضح رہے کہ ایران کی شام کی حالیہ برآمدات تقریبا ایک ارب ڈالر ہے حالانکہ ترکی 14 ارب سے زائد شام میں مصنوعات کی برآمد کر رہا ہے تو ایران اور شام کے درمیان تجارتی رکاوٹوں کو دور کرنے کے بعد تجارتی لین دین کے حجم بڑھانے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

**9467
ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha