چشمہ نور ، ایران کی سائنسی اور تکنیکی چھلانگ کیلئے ایک شارٹ کٹ راستہ ہے

قزوین، ارنا - چشمہ نور کا منصوبہ ،خطے اور دنیا میں ملک کی سائنسی اور تکنیکی چھلانگ کیلئے ایک شارٹ کٹ راستہ ہے۔

چشمہ نور کا منصوبہ قزوین میں ایک سائنسی سپر پروجیکٹ ہے جو ،خطے اور دنیا میں ملک کی سائنسی اور تکنیکی چھلانگ کیلئے ایک شارٹ کٹ راستہ ہے اور ہمارے پیارے وطن کے لئے میڈیکل سائنس ، نینو ، فزکس ، الیکٹرانکس ، میٹریل انجینئرنگ ، فوڈ انڈسٹری ، زراعت اور ایٹمی ٹیکنالوجی میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔

چشمہ نور کا منصوبہ ایک سائنسی سپر پروجیکٹ ہے جسے بیسک سائنسز ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے لاگو کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے ، سائنس و ٹکنالوجی کے نائب صدر اور ایٹمی توانائی تنظیم کے سربراہ کی موجودگی میں ایک تقریب میں  چشمہ نور پروجیکٹ کے لیبارٹری کمپلیکس اور اس سے وابستہ رہائشی یونٹوں کو کام میں لایا گیا اورملک کے اس عظیم سائنسی منصوبے کو چلانے کے لئے پہلا قدم اٹھایا گیا۔

اس عظیم سائنسی منصوبے کے نفاذ سے بلاشبہ سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ایران کی پوزیشن میں بہتری آئے گی ، اور ہزاروں مقامی سائنس دانوں اور محققین کے لیے روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ملک سے سائنسدانوں کے نکلنے کو روک سکے گا ۔

چشمہ نور اور طب، نینو، صنعت اور زراعت میں اس کا استعمال

آئی آر این اے کو انٹرویو دیتے ہوئے ، ایران میں چشمیہ نور چشمہ نور ایران منصوبے اور اس کے اطلاق کے بارے میں کہا: ہو۔

چشمہ نور کے انوویشن سینٹر کے انچارج مہدی مولائی نے  اس منصوبے کے حوالے سے ارنا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چشمہ نور ( Light Source Facility) مقامی زبان میں ایک سائنسی لیبارٹری ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں چشمہ نور کے 50 مراکز موجود ہیں ، جو یورپی ممالک ، امریکہ ، چین اور جاپان جو خود کو دنیا میں سائنسی اتھارٹی سمجھتے ہیں، میں واقع ہیں۔

مولایی نے کہا کہ انہوں نے کہا 'چشمہ نور' یا سینکروٹرن ایکسلٹر اصل میں ممالک میں ٹکنالوجی کے شعبے میں ایک بہت بڑا انفراسٹرکچر ہے۔

انہوں نے بتایاکہ ایکسلریٹرز کو سائنسی ایجادات کا انجن کہا جاسکتا ہے۔ روشنی نئی ایجادات  کے لیے ایک بہترین ذریعہ ہے اور حقیقت میں جب روشنی نہیں ہے یا لائٹس خاموش ہیں تو ہم اشیاء کو نہیں دیکھ سکتے ہیں۔

قزوین میں چشمہ نور پروجیکٹ کے نفاذ کے ساتھ ملک میں ایکسلریٹرز کی سائنس لوکلائزیشن ہوگی

مولایی نے بتایا کہ قزوین میں چشمہ نور کے منصوبے کے نفاذ کے ساتھ ملک میں ایکسلریٹرز کی سائنس لوکلائزیشن ہوگی۔

انہوں نے چشمہ نور کی شکل کے بارے میں کہاکہ ایک فٹ بال اسٹیڈیم کی طرح ہے جس کے ارد گرد مختلف لیبارٹریز موجود ہیں اور جس کے ارد گرد الیکٹرانوں کو تیز تر کیا جاتا ہے اور  اس کی روشنی سورج کی روشنی سے لاکھوں گنا زیادہ ہے۔ اور یہ روشنی، سائنسی اور تحقیقی کاموں اور اشیاء اور جانداروں کی شناخت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مثال کے طور پر فی الحال میڈیکل امیجنگ میں ایکس رے اسکیننگ کے ذریعے ہم ہمیں انسانوں یا جانداروں کی ہڈیوں کو دیکھ سکتے ہیں لیکن چشمہ نور کے استعمال کے ذریعے نہ صرف ہڈیوں کو دیکھ سکیں گے بلکہ ہم ہڈیوں کے اندر کی تفصیلات بھی دیکھ سکتے ہیں جس موضوع طبی سائنس میں ایک بہت تبدیلی ہے۔

مولایی نے مزید کہا کہ چشمہ نور کی لیبارٹری کا استعمال نہ صرف دوائی اور طبیعیات تک ہی محدود نہیں ہیں بلکہ زراعت اور کھانے کی صنعت میں بھی استعمال ہوسکتی ہیں۔ مثال کے طور پر کچھ ترقی یافتہ ممالک نے روٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے ان لیبارٹریوں کا استعمال کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: چشمہ نور سے فارمیسی ، ایرو اسپیس انڈسٹری ، آئل اینڈ پیٹروکیمیکل انڈسٹری ، کارسازی انڈسٹریز ، نینو ، ارضیات اور آثار قدیمہ کے شعبے میں استعمال ہوتا ہے۔

مولائی نے بتایا کہ چشمیہ نور لیبارٹریوں کو 10ہزارسے زائد  ہائی ٹیک سامانوں کی ضرورت ہے اور خوش قسمتی سے  گھریلو علم پر مبنی کمپنیاں اور ایرانی سائنس دان ان میں سے بہت سے حصوں کی تیاری اور فراہمی کرسکتے ہیں۔

مولایی نے کہا کہ چشمہ نور کے کچھ سامان کے لیے بیرون ملک سے بھی درآمد کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں ضروری انتظامات کیے گئے ہیں۔

مولائی نے مزید کہا کہ حالیہ برسوں میں کچھ گھریلو سائنس دانوں کو تجربہ حاصل کرنے کے لئے بیرون ممالک بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چشمہ نور کا مرکز دو اہم اہداف کے تعاقب میں ہے پہلا علم پر مبنی کمپنیوں کی  ترقی اور شناخت اور دوسرا اس منصوبےکو تیزی سے آگے بڑھانے کیلیے علم پر مبنی کمپنیوں اور ٹکنالوجی مراکز کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں چشمہ نور کے افتتاح سے ، ادویات ، دواسازی ، فوڈ انڈسٹری ، مٹریال ، نینو ، طبیعیات ، کیمسٹری اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبوں میں ایک ہزار سے دو ہزار سائنسدان اس عظیم منصوبے کی لیبارٹریوں میں براہ راست کام کرسکیں گے۔

چشمہ نور ملک کے سائنسی اور تکنیکی مقاصد کو حاصل کرنے کا ایک منصوبہ ہے

چشمہ نور کے ایک ایگزیکٹو ڈائریکٹر' صفر لک نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ اس منصوبے کی آخرین صورتحال کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ہمیں اس حوالے سے خطے اور دنیا میں سائنسی اور تکنیکی طاقت بننا چاہیے۔

لک نے کہا کہ اگر ہم سائنسی طاقت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں چشمہ نور جیسے بڑے منصوبوں پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔

انہوں نے بتایا کہ اس عظیم قومی منصوبے پر عمل درآمد کو تیز کرنے کے لئے  ہمیں حکومت اور پارلیمنٹ کے مزید تعاون کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایاکہ اس بڑے لیبارٹری اور سائنسی منصوبے کے نفاذ کے لئے قزوین میں سائنس اینڈ ٹکنالوجی پارک کے قریب 50 ہیکٹر کو مدنظر کیا گیا ہے۔

ایرانی تنظیم برائے منصوبہ بندی اور بجٹ کے سربراہ ابوالفضل یاری نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کے لیے ایک ہزار ارب ریال کریڈٹ مختص کیا گیا ہے۔

اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

۔ ۔ ۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha