ایران اور ترکی علاقے اور دنیائے اسلام کی دو بڑی طاقتیں ہیں: صدر روحانی

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے اپنے ترک ہم منصب سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، ترک عوام اور حکومت کو عیدالاضحی کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کو علاقے اور دنیائے اسلام کی دو بڑی طاقتوں کی حیثیت سے خطی مسائل کے حل میں انتہائی اہم کردار حاصل ہے۔

ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز بدھ کو  "رجب طیب اردوغان" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، ترک عوام اور حکومت کو عیدالاضحی کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اب تمام سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور بین الاقوامی شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان اچھے اور تعمیری تعلقات جاری ہیں۔

انہوں نے مستقبل میں باہمی تعاون کی ضرورت کے تسلسل و نیز تعلقات کی تقویت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف عالمی اور علاقائی امور اور عالم اسلام سے متعلق امور میں ایران اور ترکی کی ذمہ دارانہ اور تعاون پر مبنی روش ہے، جس نے خطے کے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں مدد فراہم کی ہے۔

در این اثنا ترک صدر نے بھی ایرانی حکومت اور عوام کو عیدالاضحی کی آمد پر مبارکباد دیتے ہوئےکہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات دوستانہ ہیں اور مزید آگے بڑھنے کی طرف جارہے ہیں۔

انہوں نے باہمی تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور ترکی کا علاقائی اور بین الاقوامی معاملات میں مشترکہ نقطہ نظر ہے۔

رجب طیب اردوغان نے گزشتہ 8 سالوں میں دونوں ملکوں کے مابین اسٹریٹجک تعلقات اور تعاون کو فروغ دینے اور گہرا کرنے میں صدر روحانی کے اقدامات اور کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے باہمی تعاون کے تسلسل اور مستقبل میں تعلقات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر زور دیا۔

ترک صدر نے علاقے کی حالیہ نازک صورتحال اور خطی مسائل کے حل میں ایران کے اہم کردار اور پوزیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے علاقائی بحرانوں بشمول افغانستان اور عراق کے مسائل کے حل میں علاقائی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha