ایران اور چین کے درمیان سالانہ 60 ارب ڈالر کی تجارتی لین دین کی صلاحیت

تہران، ارنا- ایران اور چین کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے کہا ہے کہ ہمارے چین سے تجارتی تعلقات کبھی سیاسی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کیخلاف پابندیوں سے پہلے دونوں ملکوں کے درمیان، تجارتی لین دین کی صلاحیت 60 ارب ڈالر تھی اور پابندیوں کی منسوخی سے دوبارہ اس سطح پر پہنچنا، آسان کام ہے۔

 رپورٹ کے مطابق، ایران میں اسلامی انقلاب کے بعد تیل پر انحصار کم کرنے اور مسابقتی ماحول پیدا کرکے  پیداوار میں اضافہ اور دنیا میں برآمدات کو بڑھاوا دینے کیلئے دنیا کے ساتھ سامان کی تجارت ملک کا سب سے اہم چیلنج رہا ہے۔

دریں اثنا، کچھ ممالک مسلسل ایرانی سامان خرید رہے ہیں اور حالیہ دہائیوں میں ایک معمولی تبدیلی کیساتھ ، وہ ایران سے تجارت کے پہلے درجے میں رہے ہیں؛ یہ ممالک، ملک کو درکار اشیاء کی فراہمی کرتے ہیں اور بدلے میں ایرانی مصنوعات خریدتے ہیں۔

دنیا کی ایک اہم معیشت کی حیثیت سے، چین ان اہم ممالک میں شامل ہے جس نے گذشتہ چار دہائیوں سے ایران کیساتھ تجارتی اور معاشی تعلقات کو برقرار رکھا ہے اور وہ گذشتہ 10 سالوں سے ایران کے تجارتی فہرست میں سرفہرست ہے۔

اس حوالے سے ایران اور چین کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ "مجید رضا حریری" نے کہا کہ 2016 میں دونوں ملکوں کے درمیان 10 سالہ تجارتی لین دین کی شرح 600 ارب ڈالر تھی جی کی بنا پرایران اور چین کے درمیان سالانہ تقریبا 60 ارب ڈالر تجارتی لین دین کی گنجائش ہے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت نے 51 ارب اور 800 ملین ڈالر کا تجربہ کیا ہے اور اگر پابندیاں کم کردی جائیں اور تجارتی رکاوٹیں دور کردی جائیں تو ایران اور چین کے لئے یہ  اس رقم تک پہنچنا، بہت آسان ہوگا۔

حریری نے کہا کہ حکومت اور سیاسی حالات میں ہونے والی تبدیلیوں سے دونوں ممالک کے مابین تجارت متاثر نہیں ہوتی ہے اور ایران اور چین کے درمیان درآمدات اور برآمدات کا عمل گذشتہ تمام سالوں میں عروج پر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران چین تعلقات کی سیاسی بنیاد نہیں، معاشی بنیاد ہے اور اگر پابندیاں ختم ہوجائیں جو اس ملک کییساتھ تجارت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے تو ہم ایک بار پھر دونوں ممالک کےمابین اقتصادی تبادلے کی قدر میں نمایاں اضافہ کرسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، رواں شمسی سال کے موسم بہار میں ایران کے غیر ملکی تجارت کی مجموعی  غیر ملکی تجارت 38 ملین 400 ہزار ٹن تھی جن کی مالی شرح 20 ارب 900 ملین ڈالر تھی؛ اس عرصے کے دوران، ایران سے 7 ملین 100 ہزار ٹن ( 3 ارب 100 ملین ڈالر) کی مصنوعات کو چین میں برآمد کیا گیا؛ نیز چین نے 683 ہزار ٹن (2 ارب 200 ملین ڈالر) کی مصنوعات کو ایران میں برآمدات کی ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha