ایرانی فوٹوگرافر نے آسٹرین میلے کا ایوارڈ حاصل کیا

لندن، ارنا - ایرانی فوٹوگرافر ساسان مویدی نے آسٹریا میں "ورلڈ پیس فوٹو فیسٹیول" کا مرکزی ایوارڈ حاصل کرلیا۔

ساسان مویدی کی تصویر آسٹرین میلے 'ورلڈ پیس فوٹو فیسٹول' میں 2020 کی سب سے بہترین تصویر کے طور پر منتخب ہوئی جس نے اس میلے کا ایوارڈ کو اپنے نام کرلیا۔  

میلے کے فاتحین کے لئے ایوارڈ کی تقریب جو کورونا کی وجہ سے ملتوی کردی گئی تھی ، پیر 19 جولائی  کو آسٹریا میں آسٹریا کی ممتاز ثقافتی، فنکارانہ اور سیاسی شخصیات بشمول آسٹرین اسپیکر، اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور  2020 کے نوبل امن انعام کے فاتح ڈیوڈ بیسلے کی موجودگی میں منعقد ہوئی۔

آسٹریا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے نے مویدی کی طرف سے ان کا ایوارڈ وصول کیا۔ اس ایرانی فوٹوگرافر نے اس میلے میں "محبت کی کہانی" کی تصاویر کے مجموعے کے ساتھ حصہ لیا ، جو  معذور کھیلاڑی 'صلاح سعید پور' اور ان کی اہلیہ سروہ امینی کی زندگی کی تصاویر کا مجموعہ ہے۔

ایرانی فوٹوگرافر نے آسٹرین میلے کا ایوارڈ حاصل کیا

صلاح سعید پور نے 2001 میں 15 سال کی عمر میں بارودی سرنگ کے دھماکے کی وجہ سے اپنے دونوں ہاتھ اور دو آنکھیں کھو دیں۔ بعدازاں اپنی اہلیہ کی مدد سے انہوں نے زندگی کے مسائل پر قابو پالیا اور قومی اور بین الاقوامی سطحوں پر معذور تیراکی مقابلوں میں متعدد تمغے اور اعزازات حاصل کیے۔

ہر سال ، میلے کی پہلی پانچ تصاویر کو الفرڈ ہرمن فرائڈ پیس میڈل سے نوازا جاتا ہے اور ان میں سے ایک کو " Peace  image of the year' کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے اور اسے 10 ہزار کا نقد انعام ملتا ہے۔

روس ، فرانس ، جرمنی ، آسٹریا اور نائیجیریا کے فوٹوگرافراس میلے کے دوسرے فاتح ہیں

اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURDU1

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha