افغانستان کو امن کے بغیر تبدیلی کا خطرہ ہے: سابق پاکستانی سفیر

اسلام آباد، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران میں تعینات سابق پاکستانی سفیر نے کہا ہے کہ افغانستان کی حالیہ صورتحال کے اثرات، اس کے ہمسایہ ممالک پر پڑتے ہیں اور افغانستان کو بغیر کسی امن منصوبے کے تبدیلی کا سامنا ہے جبکہ افغانوں کو بیرونی مداخلت کے بغیر خود اپنی تقدیر کا تعین کرنا ہوگا۔

ان خیالات کا اظہار "آصف علی خان درانی" نے پیر کے روز اسلام آباد میں تعینات ارنا نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کے دو قریب ترین اور اہم ہمسایہ ممالک یعنی ایران اور پاکستان تنازعات میں اضافے سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

درانی نے کہا کہ افغانستان میں امن منصوبے کے بغیر بہت سی تبدیلیوں کی گنجائش موجود ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ طالبان، دوسری فریق کیجانب سے بغیر کسی مزاحمت کے افغانستان کے مزید علاقوں پر آسانی سے قابو پانے کیلئے پیش قدمی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال سنگین ہے اور ملک کو تبدیلی کا سامنا ہے جہاں امن نہیں ہوگا؛ ایسی صورت میں افغانستان خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا اور صورتحال مزید ابتر ہوگی۔

سابق پاکستانی سفیر نے کہا کہ ہمیں افغانستان میں خانہ جنگی کے بڑھنے کے نتائج سے متعلق خدشات ہیں کیونکہ ایران اور پاکستان، اس ملک کے دو اہم ہمسایہ ممالک کی حیثیت سے، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوں گے اور پہلے مرحلے میں مزید مہاجرین ان ممالک کا رخ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی تشویشناک صورتحال کے باوجود، ہمیں کابل حکومت اور طالبان کی طرف سے کوئی سنجیدہ نقطہ نظر، نظر نہیں آتا ہے جبکہ طالب جنگجووں نے بغیر کسی مزاحمت کا سامنا کرنے کے آسانی سے افغانستان کے بہت سے علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔

درانی کہا کہ طالبان سے جھڑپوں کی صورت میں افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوجائے گی جس کی وجہ سے افغان عوام ایران یا پاکستان میں محفوظ مقامات تلاش کرنے پر مجبور ہوں گے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان کا مسئلہ اس ملک کے عوام کی قیادت اور مرضی کے تحت حل ہونا ہوگا لیکن انہیں تخریب کار عناصر سے متعلق چوکس رہنا ہوگا کیونکہ وہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام کے خواہاں نہیں ہیں اور ان کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha