ایران عالمی سلامتی کو یقینی بنانے کیلیے باہمی تعاون پر تیار ہے: ایرانی جنرل

ماسکو، ارنا - مسلح افواج کے نائب چیف آف سٹاف نے کہا ہے کہ ایران عالمی سلامتی اور استحکام کے مسائل کو حل کرنے کے لئے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔

یہ بات بریگیڈئیر جنرل مہدی ربانی نے بدھ کے روز ماسکو میں 9 ویں بین الاقوامی سلامتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ ہم عالمی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کیلیے دوسرے ممالک کے ساتھ باہمی تعاون کے لیے آمادہ ہیں۔
 جنرل ربانی کی قیادت میں ایرانی وفد اور روس میں ایرانی سفیر ' کاظم جلالی' ماسکو میں آج سےشروع ہونے والی 9 ویں عالمی سلامتی کانفرنس میں شریک ہیں۔
کانفرنس کے موقع پر ایرانی وفد روس اور دیگر شریک ممالک کے اعلی فوجی اور سیکیورٹی عہدیداروں سے ملاقات کرے گا۔
نویں بین الاقوامی سلامتی کانفرنس کا بدھ کے روز روسی دارالحکومت میں آغاز کیا گیا ہے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں وزارت دفاع، بین الاقوامی تنظیموں اور سرکاری اور غیر سرکاری ماہرین کے نمائندے عالمی سلامتی کے اہم سوالات کو جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق  نویں بین الاقوامی سلامتی کانفرنس میں 600 سے زائد مہمان شریک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا کے ممالک کے ساتھ بہترین تعلقات کا خواہاں ہے اور خارجہ پالیسی کی ترجیج پڑوسی ممالک ہیں ایران اپنے پڑوسیوں کے ساتھ مستحکم اور تناؤ سے پاک تعلقات کا تعاقب کرتا ہےجو ہمارے لیے روس کے ساتھ تعلقات بہت اہم ہے۔

ایرانی جنرل نے کہا کہ آج دنیا میں تیز رفتار تبدیلیوں اور روایتی اور جدید خطرات کی وجہ سے ، آزاد ممالک کو دنیا کو استحکام کے قیام کے لئے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دنیا اور خطے کے مسائل کے حل اور استحکام اور سلامتی پیدا کرنے کیلیے دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔

انہوں نے کہاکہ کچھ تسلط پسند حکومتوں نے ظلم، دہمکی، غنڈہ گری، جارحیت اور ناانصافی کے ساتھ قومی اور مذہبی انتہاپسندی، دہشتگردی اور نسل پرستی کو فروغ دیا۔

جنرل ربانی نے کہا کہ میدان جنگ میں دو سے تین دہائیوں تک داعش کے تحفظ کیلیے امریکی کوششیں ناکام رہی، اور داعش کے خاتمے کا اعلان کیا گیا، لیکن انتہا پسندی اور دہشت گردی کے عروج کی وجوہات جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدم استحکام اور بد امنی کو مدد دینے والے بہت سے عوامل ابھی بھی سلامتی کے قیام اور بحران زدہ ممالک کی تعمیر نو کے عمل میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اب وہ وقت آگیا ہے کہ غیرعلاقائی فورسز بشمول امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹکام) کی دہشت گرد قوتیں ، جن کے ہاتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بہادر کمانڈر جنرل سلیمانی سمیت ہزاروں بے گناہ لوگوں کے خون سے آلودہ ہیں، مغربی ایشین خطے کو چھوڑ دیں تاکہ خطے کے ممالک پائیدار سلامتی فراہم کرسکیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha