انسانی حقوق کونسل کی ایران مخالف رپورٹ سیاسی ایجنڈے پر مبنی ہے

لندن، ارنا- اقوام متحدہ میں تعنیات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کیجانب سے ایران مخالف رپورٹ کے رد عمل میں کہا کہ یہ دستاویز بالکل سیاسی ایجنڈے پر مبنی ہے اور بڑے پیمانے پر غلط معلومات اور بیانات پر مشتمل ہے۔

ان خیالات کا اظہار "اسماعیل بقائی ہامانہ" نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 47 ویں اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے اس بات کی یقین دہائی کرائی کہ اسلامی جمہوریہ ایران، انسانی حقوق کے تحفظ اور فروغ کیلئے پوری طرح پُرعزم ہے اور اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرتا ہے؛ اس کے مطابق، کل اس نے انسانی حقوق کی کمیٹی کو سول اور سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہد نامے پر عمل درآمد سے متعلق اپنی چوتھی قومی رپورٹ پیش کی۔

بقائی ہامانہ نے کہا کہ ہم تمام ممالک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ عالمی حقوق کے احترام کرنے، غیرجانبداری سے کام کرنے اور انسانی حقوق کے امور سے متعلق دوہرے معیار کے خاتمے سمیت انسانی حقوق کے مسائل کو سیاسی رنگ دینے سے نمٹنے کے اصولوں پر عمل پیرا ہوں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم ان سب جو انسانی حقوق کی پرواہ کرتے ہیں، سے مطالہ کرتے ہیں کہ وہ قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور انسانی حقوق کے تحفظ میں عدالتی نظام کی مرکزیت کو تسلیم کریں۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ ایرانی عوام نے سابق ​​امریکی حکومت کے زبردستی، یکطرفہ اور سفاکانہ اقدامات جسے ایرانی عوام پر "زیادہ سے زیادہ" دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی کے طور پر استعمال کیا گیا تھا، کے "زیادہ سے زیادہ مزاحمت" کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی حکومت، سابق حکومت کی غیر انسانی رویے کے نقش قدم پر چلتی ہے جو بین الاقوامی قانون اور انسانیت کے بنیادی اصولوں کیخلاف ہے۔

بقائی ہامانہ نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حامی ممالک جو واشنگٹن کے یکطرفہ اور جبری اقدامات کی حمایت کرتے ہیں، کو بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی پامالی کا جواندہ ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ نے کورونا عالمیگر وبا کے موقع پر بھی 3 اکتوبر 2018ء عالمی عدالت انصاف کیجانب سے جاری حکم جس میں ایران میں ہر کسی قسم کے اشیائے خورد و نوش، ادویات اور طبی سامان اور سہولیات پر پابندی کو منع کیا کیا تھا، پر پروا کیے بغیر ایران کیخلاف سخت سے سخت پابندیاں عائد کیں۔

بقائی ہامانہ نے کہا کہ امریکہ، اس کے حامیوں اور وہ ممالک جو واشنگٹن کے یکطرفہ اور زبردستی اقدامات کو نافذ کرتے ہیں ان کو انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر اور سنگین پامالیوں پر جوابدہ ہونا چاہئے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ وہ جو اس طرح کے وحشیانہ یکطرفہ جابرانہ اقدامات کرتے ہیں وہ یہ کیسے منطقی دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں ایرانیوں کے انسانی حقوق کی پرواہ ہے؟

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha