ایران نے افغان فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کی موثر حمایت کی اپیل کی

نیویارک، ارنا- اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے افغانستان کی سلامتی کی صورتحال پر سنجیدہ خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ملک سے غیر ملکی افواج کے انخلاء سے افغان فوجیوں اور سیکورٹی فورسز کی موثر حمایت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام فریقین سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ افغان عوام کے مفادات کو دوسروں کے مفادات سے زیادہ مد نظر رکھیں۔

ان خیالات کا اظہار "مجید تخت روانچی" نے منگل کے روز افغانستان سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کے بعد، یہ ملک ایک دوراہے پر ہے؛ اگر تمام فریقین کئی دہائیوں سے جاری خونریزی کے اختتام پر مذاکرات اور اتفاق رائے پر راضی ہوجائیں تو یہ مفاہمت کی طرف بڑھ سکتی ہے، اور اگر ایک فریق دوسروں کو جبر سے امن پر مجبور کرنے کی کوشش کرے تو وہ تنازعہ کی راہ میں گر سکتے ہیں۔

تخت روانچی نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی برادری کو دوسرا آپشن ہونے کی اجازت نہیں دینی ہوگی کیونکہ یہ حقیقی امن نہیں ہوگا اور اسی وجہ سے نہیں چل پائے گا۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ ایک امن، مستحکم اور خوشحال افغانستان، افغان عوام سمیت علاقے اور خطے کے مفادات میں ہے۔ لیکن اس کے برعکس ایک غیر مستحکم افغانستان جس میں تشدد، دہشتگردی، اور منظم جرائم بشمول منشیات کی اسمگلنگ ہو، افغانوں سمیت علاقائی اور بین الاقوامی امن کو خطرات کا شکار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ لہذا؛ اس طرح کے خطرات کا مقابلہ اور ایک محفوظ اور زیادہ خوشحال افغانستان کی تعمیر ہر ایک کے مفاد میں ہے اور جب ان مشترکہ مقاصد کو حاصل کرنے کا موقع ملے تو ہر ایک کو اس مرحلے پر سنجیدگی سے کام کرنا ہوگا۔

اقوام متحدہ میں تعنیات ایرانی مندوب نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کیلئے اقوام متحدہ کے ذریعہ سہولت بخش بین الاقوامی افغان امن عمل کے آغاز کی ضرورت ہے جس میں پائیدار امن کے سلسلے میں افغانستان کے تمام سیاسی، مذہبی اور قومی گرہوں بشمول طالبان کی شرکت سے انٹرا افغان ڈائیلاگ کا انعقاد شامل ہو۔

انہوں نے کہا کہ  افغانستان جیسے متنوع معاشرے میں  کوئی گروہ، چاہے عسکری طور پر کتنا ہی طاقتور ہو؛ دوسروں پر غلبہ حاصل کرنے کیلئے طاقت اور تشدد کا سہارا نہیں لے سکتا اور اسی وجہ سے ایک جائز حکومت کا قیام صرف ایک جامع سیاسی عمل اور جمہوری طریقے سے ہی ممکن ہے۔

ایرانی سفیر نے اس بات پر زور دیا کہ  افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد، طالبان کے پاس طاقت کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہے؛ لہذا اسے تشدد کو روکنا چاہئے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی امن عمل کی کامیابی اور اس کے بعد کے اقدامات کا انحصار تمام افغانوں کی مضبوط حمایت پر ہے۔

تخت روانچی نے کہا کہ اس کے علاوہ افغانستان میں امن کا کوئی بھی عمل جس کی قیادت اور انتظام کسی ایک اداکار کے ذریعے کیا جاتا ہے اگرچہ وہ طاقتور ہو؛ تا ہم اگر اس میں دیگر اداکار بشمول اس خطے کے دیگر ممالک کی عدم موجودگی سمیت اقوام متحدہ کے کم ترین کردار حاصل ہو، سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا۔

تخت روانچی نے کہا کہ ایران نے لاکھوں افغان مہاجرین کی میزبانی کرکے  چابہار کی بندرگاہ کے راستے اور خواف- ہرات ریلوے کے راستے افغانستان کو یورپ اور آزاد پانیوں سے منسلک کرنے سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں قیام جمہوریت و نیز اس میں قیام امن اور سلامتی کی بحالی کیلئے افغان حکومت اور عوام کیساتھ کھڑا ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha