رئیسی کے دوران صدارت میں تہران- باکو تعلقات کے فروغ کا سلسلہ جاری رہے گا

باکو، ارنا- آذربائیجان کی پارلیمنٹ کے دو ممبران "المان نصیر اف" اور "عزیز علی اکبر اف" نے کہا ہے کہ علامہ رئیسی کے برسرکار آنے پر بھی تہران اور باکو کے درمیان تعلقات کے فروغ کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نصیراف نے اسپیس ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ابراہیم رئیسی کو ایک تجربہ کار سیاستدان قرار دیتے ہوئے اس بات کی یقین دہائی کرائی کہ نئے صدر، ایران کے اعلی قائدین کی طے شدہ پالیسی کے سلسلے میں جمہوریہ آذربائیجان کیساتھ اسٹریٹجک تعلقات کو فروغ دینے کیلے کام کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوریہ آذربائیجان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے قومی مفادات کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات اعلی سطح پر ہوں۔

رئیسی کے دوران صدارت میں تہران- باکو تعلقات کے فروغ کا سلسلہ جاری رہے گا

"علی کبر اف" نے بھی اسپس ٹی وی چینل سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کاراباخ کی دوسری جنگ اور آذربائیجان کی مقبوضہ علاقوں کی آزادی کے بعد ایران اور آذربائیجان کے تعلقات نئے دور میں داخل ہوگئے ہیں اور خاص طور پر خطے میں نقل و حمل کے نئے راستوں کے آغاز سے دونوں ممالک کے مابین معاشی تعاون میں توسیع اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے قطع نظر کہ ایران میں کونسی سیاسی طاقت برسر اقتدار آتی ہے، دونوں ممالک کے مابین تعلقات مستقبل میں ترقی کرتے رہیں گے؛ کیونکہ دونوں ممالک کے مابین باہمی روابط کی ترقی جمہوریہ آذربائیجان اور ایرانی حکومت اور عوام کے مفاد میں ہے۔

رئیسی کے دوران صدارت میں تہران- باکو تعلقات کے فروغ کا سلسلہ جاری رہے گا

اسپیس ٹی وی کے اینکر نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمہوریہ آذربائیجان خطے کے ایک طاقتور ملک کی حیثیت سے ایران کیساتھ تعلقات اور تعاون کو بڑھانے میں ہمیشہ دلچسپی رکھتا ہے اور خطے کے نئے حالات یہ بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ باکو اور تہران کے مابین باہمی روابط بڑھ جائیں۔

 یہ بات قابل ذکر ہے کہ آذربائیجان  کے صدر "الہام علی ایف" نے بھی حالیہ دنوں میں ایک پیغام میں آیت اللہ رئیسی کو ایران کے تیرہویں صدراتی انتخابات میں کامیاب ہونے پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تاریخی، تہذیبی اور مذہبی تعلقات پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ایران سے تعلقات ہمارے کیلئے انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان اسٹرٹیجک سطح پر تعلقات پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ باہمی دوروں، متعدد دستاویزات پر دستخط، مشترکہ معاشی معاہدوں اور منصوبوں کے ساتھ ساتھ ایران اور جمہوریہ آذربائیجان کے مابین اقتصادی تعاون کے لئے بین السرکاری کمیشن کے کامیاب کام نے باہمی فائدہ مند تعاون کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

علی اف نے کہا کہ آذربائیجان کے مقبوضہ علاقوں کی آزادی سے ایران سے مشترکہ سرحد اس ملک کے مکمل کنٹرول میں ہے؛ نئی شرائط دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور علاقائی تعاون کو فروغ دینے کے بہترین مواقع پیدا کرتی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات، باہمی احترام، حسن ہمسایگی، مشترکہ مفادات کی بیناد پر دن بدن بڑھتے رہیں گے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha