جوہری معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے: آسٹرین وزیر خارجہ

لندن، ارنا- آسٹرین وزیر خارجہ نے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاسوں کی میزبانی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار "الکساندر شالنبرگ" نے منگل کے روز اپنے سعودی عرب کے ہم منصب "فیصل بن فرحان" سے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران، گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے ایران اور 1+4 گروہ کے درمیان جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے اجلاسوں کا یکم اپریل سے ویانا میں آغاز کیا گیا اور اب تک ان مذاکرات کے چٹھے دور کا انعقاد کیا گیا ہے۔

ویانا میں منعقدہ جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے حالیہ اجلاس کے دوران، وفود نے مذاکرات میں پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے اپنے پختہ عزم کا اظہار کرلیا تا کہ باقی تصفیہ طلب امور کو بھی حل کیا جاسکے ۔

اس موقع پر آسٹرین وزیر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطی کی سلامتی ہمارے لیئے انتہائی اہم ہے اور "شاید جوہری معاہدہ کوئی اعلی معاہدہ نہ ہو لیکن اس سے بہتر ہے کہ ہمارا کوئی معاہدہ نہ ہو؛ کبھی کبھی سیاست میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اچھے معاملے کا انتظار کرنا ہے یا جو دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھانا ہے"۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس معاہدے کے تحفظ اور اس پر پوری طرح عمل درآمد کیلئے ہونے والی کوششیں انتہائی قابل قدر ہیں۔

شالنبرگ نے کہا کہ وہ علاقائی ممالک کیجانب سے ایران سے متعلق دعوے کیے گیے خدشات سے واقف ہیں؛ "لیکن استدلال یہ ہے کہ یا تو آپ کہتے ہیں کہ جب تک ان امور کو مدنظر نہیں رکھا جاتا ہے اس وقت تک ہم کوئی معاہدہ نہیں کریں گے یا ہمیں قدم بہ قدم آگے بڑھنا ہوگا؛ تو میری رائے میں، جوہری معاہدہ ایک قابل قدر اقدام ہے اور بین الاقوامی سیاست میں مکالمہ بہت ضروری ہے"۔

آسٹرین وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ انہوں نے اپنے سعودی ہم منصب سے تہران اور ریاض کے مابین براہ راست بات چیت پر تبادلہ خیال کیا ہے؛ انہوں نے اس اقدام کو حوصلہ افزا قرار دیا اور کہا کہ اب ہمیں دیکھنا ہے کہ نئی حکومت میں یہ مذاکرات جاری رہیں گے یا نہیں۔

انہوں نے من میں انسانی صورتحال کی ابتر صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار بھی کرلیا۔

دراین اثنا سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران میں خارجہ پالسی کا تعین سپریم لیڈر ہی کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ایران سے تعلقات کو اسی بنیاد پر رکھتے ہیں؛ اس بات سے قطع نظر کہ کون ایرانی صدرات کا عہدہ سنبھالیں گے۔

 انہوں نے کہا کہ  مارا صہیونی حکومت سے کوئی رشتہ نہیں ہے؛ لہذا حکومت کی تبدیلی کا ہمارے تعلقات پر براہ راست اثر نہیں پڑتا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ نئی اسرائیلی حکومت مشرق وسطی میں امن کے حصول کے لئے زیادہ مثبت نقطہ نظر اپنائے گی کیونکہ کہ ہمارا پختہ یقین ہے کہ یہ موقف خطے میں امن اور استحکام کا باعث بنے گا۔

انہوں نے عالمی جوہری ادارے کے سربراہ سے اپنی ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے خیال میں آئی اے ای اے کا کردار اہم ہے اور یہ ضروری ہے کہ ہم اس کی سرگرمیوں کی حمایت کریں تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایران کا جوہری پروگرام پرامن ہے۔

انہوں نے کہا کہ  مارے خیال میں، جوہری معاہدے پر جاری مذاکرات کے باوجود  باقی معاملات کو دور کرنا ہوگا اور ایران کو جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کے لئے جوابدہ ہونا ہوکا۔

حالانکہ "رافائل گروسی" نے آگست مہینے کے دوران، اسلامی جمہوریہ ایران کے حکام کی باضابطہ دعوت سے ایران کا پہلا دورہ کیا اور اس دورے کا مقصد آئی اے ای اے اور ایران کے درمیان تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کا تھا۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایرانی پارلیمنٹ نے 11 دسمبر کو ایک قانون کی منظوری دی ہے جس کے تحت ایرانی حکومت کا فرض ہے کہ اگر امریکی پابندیاں جاری رہیں تو وہ آئی اے ای اے کیساتھ تعاون کو محدود کرے اور جوہری معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو کم کرنے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت، جوہری معاہدے کے آرٹیکل 36 اور 37 کے مطابق، اس قانون کے نفاذ کے 2 ماہ کے اندر جوہری معاہدے کے تحت ایڈیشنل پروٹوکول سے پرے نگرانی کی رسائی کو معطل کرنے کی پابند ہے۔

امریکی نئی انتظامیہ نے اس پہلے ایران کیخلاف پابندیوں کی منسوخی اور جوہری معاہدے میں شمولیت کا وعدہ دیا تھا تا ہم اب اس نے ان اقدامات کو اٹھانے کیلئے ایران کیجانب سے اپنے جوہری وعدوں پر عمل کرنے کا شرط لگایا ہے۔

اور یہ ایک ایسی صورتحال میں ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران کا عقیدہ ہے کہ امریکہ نے جوہری معاہدے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کیخلاف ورزی کی ہے اور ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ جب پابندیوں کا خاتمہ ہوجائے اور امریکہ جوہری معاہدے میں از سر نو شامل ہوجائے تب ایران، اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

واضح رہے کہ ایران اور گروپ 1+5 کے درمیان 13 سالوں کے دوران مذاکرات کے بعد 14 جون 2015ء کو یہ معاہدہ طے پایا گیا اور اس کے ہفتے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرداد نمبر 2231 کو جوہری معاہدے کا ضم کردیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور جوہری معاہدے کے خلاف پرانے الزامات کو دہرا کر 8 مئی 2018ء کو اس معاہدے سے امریکی علیحدگی کا اعلان کردیا تھا۔

دوسری طرف یورپی فریقین نے اپنے جوہری وعدوں پر بھر پور طریقے سے عمل نہیں کیا اور ایران کیساتھ تجارتی لین دین کو قانونی طریقے سے جاری رکھنے کیلئے یورپ کا مالیاتی نظام انسٹیکس کا بھی پوری طرح نفاذ نہیں کیا گیا۔

لہذا ایران نے یورپی فریقین کی وعدہ خلافی کی وجہ سے اپنے جوہری وعدوں کی کمی لائی۔

جوبائیڈن نے، انتخابات میں جیتنے سے پہلے ایران جوہری معاہدے میں از سرنو شمولیت کا وعدہ دیا تھا۔

ماہرین کا عقیدہ ہے کہ جب تک ایران، جوہری وعدوں پر پوری طرح عمل نہ کرے تو امریکہ ایران کیخلاف پابندیوں کو نہیں اٹھایا جائے گا۔

تا ہم ایرانی وزیر خارجہ "محمد جواد ظریف" نے کہا ہے کہ پابندیوں کی منسوخی اور ایران کیجانب سے جوہری وعدوں میں واپسی کیلئے وقت کا تقاضا نہیں ہے اور بائیڈن تین ایگزیکٹو آرڈرز کے ساتھ پابندیاں ختم کرسکتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha