ایران سے مضبوط تعلقات پاکستان کی فارن پالیسی کی ترجیحات میں سر فہرست ہے

اسلام آباد، رنا- پاکستانی سینیٹ میں دفاعی امور کے چیئرمین نے چار جہتی حل بشمول ثقافتی، پارلیمانی، اقتصادی اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات کے فروغ کو اسلام- آباد اور تہران کیلئے ضروی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران سے مضبوط تعلقات پاکستان کی فارن پالیسی کی ترجیحات میں سر فہرست ہے۔

ان خیالات کا اظہار مسلم لیگ نواز کے اعلی رکن سینیٹر "مشاہد حسین" نے پیر کے روز اسلام آباد میں تعینات، ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی کے باوجود؛ چاہے وہ فوجی ہو یا غیر فوجی، ہم نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ اور بھائی ملک ایران کیساتھ مضبوط تعلقات پر زور دیا ہے اور یہ بات اسلام آباد کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اسلامی جمہوریہ ایران، اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی ہے اور ہم نے اپنے ایرانی بھائیوں کو یقین دلایا ہے کہ ہم کبھی بھی پاکستانی سرزمین کو ایران کیخلاف استعمال کرنے اور مشترکہ سرحدوں کو غیر مستحکم کرنے کی اجازت نہیں ہونے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران کیساتھ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہے  ۔دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی موجودہ صورتحال پائیدار سمجھی جاتی ہے اور پاکستان کی موجودہ حکومت اسی موقف کیساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

مشاہد حسین نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کے فروغ پر زوردیتے ہوئے اس حوالے سے سرحدی بازاروں کے افتتاح پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کو سرحدی علاقوں میں رہنے والوں کی معاشی صورتحال میں بہتری آنے اور تجارتی تعلقات میں اضافے میں موثر قرار دے دیا۔

انہوں نے مشترکہ مفادات کے حصول کیلئے سفارتی سطح پر باہمی ہم آہنگی کی ضرورت پز رودیتے ہوئے ایران اور پاکستان کے مابین سیکیورٹی ڈپلومیسی کو فروغ دینے اور انسداد دہشت گردی کے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دونوں ہمسایہ ممالک کو مشترکہ سرحدوں کے تحفظ کیلئے سیکیورٹی تعاون اور دہشت گردی کے عناصر کے خلاف لڑنا ہوگا۔

مسلم لیگ نواز کے اعلی رکن نے ویانا جوہری مذاکرات اور ایران کیخلاف پابندیوں کی مکمل منسوخی کی خواست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مغرب کا ایران کی طرف دوہرا معیار اور اسلامی جمہوریہ کے جوہری پروگراموں کے خلاف ان کا متعصبانہ نظریہ کبھی بھی قابل قبول نہیں ہے۔

انہوں نے مسئلہ فلسطین سے متعلق اسلام آباد اور تہران کے مشترکہ موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلامی جمہوریہ ایران کیجانب سے کشمیر سے متعلق تعمیری موقف اپنانے کا شکریہ ادا کیا۔

مشاہد حسین نے علاقے میں قیام امن اور سلامتی کی ضرورت پر تبصرہ کرتے ہوئے ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کو ایک انتہائی مثبت تبدیلی قرار دیا جو دونوں ملکوں سمیت خطے کے مفاد میں بھی ہے۔

انہوں نے ایران اور چین کے درمیان 25 سالہ جامع تعاون دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے اسے علاقائی تعلقات کیلئے انتہائی اہم قرار دے دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha