ایران اور یورپ کے درمیان سمندری ٹرانسپورٹ میں اضافہ

تہران، ارنا- ایران پورٹس اتھارٹی کے سربراہ برائے میری ٹائم سیفٹی اینڈ پروٹکشن کے سربراہ نے کہا ہے کہ حالیہ سالوں کے دوران ایران اور یورپ کے درمیان سمندری ٹراسپورٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بین الاقوامی پانیوں تک رسائی سے یورپی ملکوں سے براہ راست سامان کے تبادلہ کی توسیع میں کامیابی حاصل کی ہے۔

ان خیالات کا اظہار "نادر پسندہ" نے آج بروز اتوار کو ہائیڈرو گرافی کے عالمی دن کے قریب ہونے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ سمندری ٹراسپورٹ؛ بین الاقوامی میدان میں سامان کی منتقلی کا سب سے بہترین طریقہ ہے اور دنیا میں سالانہ نقل حمل کے شعبے کی سب سے بڑی مقدار اسی طریقے سے ہے۔

پسندہ نے کہا کہ ملک کے شمال میں بحیرہ کیسپین اور جنوب میں خلیج فارس اور بحیرہ عمان تک رسائی کی وجہ سے ایران کی 5،790 کلومیٹر ساحلی پٹی ہیں جن میں تقریبا 3 ہزار کلومیٹر ساحل کی لکیروں کا حصہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسی وجہ سے ایران کو سمندری تجارت کا بڑآ موقع حاصل ہے اور اپنی نقل و حمل کے سب سے بڑے حصے کو سمندری ٹرانسپورٹ سے ہینڈل کرتا ہے۔

پسندہ نے کہا کہ، ایرانی سمندری تجارت کا زیادہ حصہ، ملک کے جنوب سے ہوتا ہے اور بحری نقل و حمل کا رخ، خلیج  فارس کے جنوبی ممالک، بحر ہند اور مشرق بعید کے ممالک میں ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ سالوں کے دوران ایران اور یورپ کے درمیان سمندری ٹراسپورٹ میں اضافہ کا ریکارڈ کیا گیا ہے اور  ایران نے بین الاقوامی پانیوں تک رسائی سے یورپی ملکوں سے براہ راست سامان کے تبادلہ کی توسیع میں کامیابی حاصل کی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha