صدر روحانی کی آیت اللہ رئیسی کو صدراتی انتخابات میں کامیابی پر مبارکباد

تہران، ارنا- ایرانی صدر مملکت نے ایک پیغام میں تیرہویں صدراتی انتخابات میں آیت اللہ "سید ابراہیم رئیسی" کی کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ بلاشبہ، دستیاب تمام مادی اور روحانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے مسائل کے حل اور عوامی مطالبات کے حصول میں تیزی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے پیغام میںآیت اللہ رئیسی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ایرانی عوام کیجانب سے آپ کو تیرہویں صدراتی انتخابات میں چُننے پر دل کی گہراہیوں سے مبارکباد دیتا ہوں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کردیا کہ آیت اللہ رئیسی کی کوششوں اور ملک کے تمام عہدیداروں اور تنظیموں کے تعاون سے، ایرانی عوام کی خوشحالی، رفاہ، امن اور سکون کیلئے مزید موثر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

صدر روحانی نے اس بات پر زور دیا کہ بلاشبہ، دستیاب تمام مادی اور روحانی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے سے مسائل کے حل اور عوامی مطالبات اورقومی اور بین الاقوامی میدان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ارمانوں کے حصول میں تیزی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بارہویں حکومت، تیرہویں حکومت کو ملکی نظام سونپنے پر ضروری اقدامات اٹھانے پر تیار ہے۔

ایرانی صدر نے رئیسی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کرلیا اور اللہ رب العزت سے ایرانی عوام کی کامیابی کی دعا کی۔

واضح رہے ایران کے صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کا اعلان ہونے میں قدرے تاخیر ہے لیکن غیرسرکاری نتائج کے مطابق صدارتی امیدوار  ابراہیم رئیسی نے دیگر تین امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔

صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ سے متعلق حتمی اعداد وشمار آنے باقی ہیں؛ تاہم مجموعی طور پر 6 کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایرانی عدلیہ کے سربراہ رئیسی بھاری اکثریت سے ایرانی صدر منتخب ہوگئے، انہوں نے 28 ملین 600 ہزار مجموعی ووٹ سے 17 ملین 800 ہزار ووٹ حاصل کیے؛ اس کے بعد "محسن رضائی"، "عبدالناصر ہمتی" اور "امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی" نے بالترتیب 3 ملین 300 ہزار، 2 ملین 400 ہزار اور ایک ملین ووٹ حاصل کیے ہیں۔

تیرہیوں صدارتی انتخاب میں چار امیدوار رئیسی کے مدمقابل تھے، باقی تینوں امیدواروں نے اپنی شکست تسلیم کر کے ابراہیم رئیسی کو کامیابی کی مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ 60 سالہ ابراہیم رئیسی رواں برس اگست میں صدارتی منصب سنبھالیں گے جنہیں امریکہ سے جوہری معاہدے جسے اہم معاملات کا سامنا ہوگا تاکہ ایران پر عالمی پابندیوں ختم ہوں اور ملک میں معاشی بحران پر کنٹرول پایا جاسکے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha