ملکی مسائل کے حل میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کروں گا: نئے ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایران کے نومنتخب صدر نے کہا ہے کہ وہ  نئی حکومت میں ملک کے مسائل بالخصوص معاشی میدان میں عوام کے مشکلات کو حل کرنے میں کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار علامہ "سید ابراہیم رئیسی" نے آج بروز ہفتے کو پارلیمنٹ کے اسپیکر کیساتھ ایک ملاقات کے بعد، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم پارلیمنٹ، پارلیمنٹ کے اسپیکر اور ممبران، اشرافیہ اور دیگر ماہرین کے تعاون سے ملکی مسائل کے حل کے سلسلے میں نئی حکومت کی تشکیل دیں گے۔

  رئیسی نے کہا کہ ہم مستقبل میں ہمارے پیارے لوگوں میں روشن مستقبل پر امید رکھنے، حکومت پر ان کا اعتماد دن بدن بڑھانے و نیز حکومت اور عوام ایک ساتھ مل کر خوشحالی میں زندگی گزارنے کی کوشش کریں گے۔

نئے ایرانی صدر نے ایرانی عوام اور دیگر امیدواروں کیجانب سے انتخابات میں بڑے جوش خروش سے حصہ لینے کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے نئی حکومت کی تشکیل میں عوام کی موجودگی کی فضا کی فراہمی کرنے میں قائد اسلامی انقلاب حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے کے کردار کا شکریہ ادا کیا۔

علامہ رئیسی نے کہا کہ میں ان بزرگوں، مراجع تقلید اور اشرافیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی تقریروں اور اعلانات کے ذریعے عوام کو انتخابات میں بڑی تعداد میں شریک کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بیلٹ باکس میں عوام کی موجودگی، نئی حکومت کی تشکیل میں انتہائی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔

واضح رہے ایران کے صدارتی انتخاب کے سرکاری نتائج کا اعلان ہونے میں قدرے تاخیر ہے لیکن غیرسرکاری نتائج کے مطابق صدارتی امیدوار  ابراہیم رئیسی نے دیگر تین امیدواروں کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرلی ہے۔

صدارتی انتخاب میں ٹرن آؤٹ سے متعلق حتمی اعداد وشمار آنے باقی ہیں؛ تاہم مجموعی طور پر 6 کروڑ ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے کے اہل تھے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، ایرانی عدلیہ کے سربراہ رئیسی بھاری اکثریت سے ایرانی صدر منتخب ہوگئے، انہوں نے 28 ملین 600 ہزار مجموعی ووٹ سے 17 ملین 800 ہزار ووٹ حاصل کیے؛ اس کے بعد "محسن رضائی"، "عبدالناصر ہمتی" اور "امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی" نے بالترتیب 3 ملین 300 ہزار، 2 ملین 400 ہزار اور ایک ملین ووٹ حاصل کیے ہیں۔

تیرہیوں صدارتی انتخاب میں چار امیدوار رئیسی کے مدمقابل تھے، باقی تینوں امیدواروں نے اپنی شکست تسلیم کر کے ابراہیم رئیسی کو کامیابی کی مبارکباد دی۔

واضح رہے کہ 60 سالہ ابراہیم رئیسی رواں برس اگست میں صدارتی منصب سنبھالیں گے جنہیں امریکہ سے جوہری معاہدے جسے اہم معاملات کا سامنا ہوگا تاکہ ایران پر عالمی پابندیوں ختم ہوں اور ملک میں معاشی بحران پر کنٹرول پایا جاسکے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha