انتخابات کا عمل مذہبی جمہوریت کا سرمایہ ہے

تہران، ارنا – ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہاہے کہ  انتخابات کا عمل مذہبی جمہوریت کا سرمایہ ہے اور در حقیقت جمہوریت اور اسلامیت کے تحفظ کے لئے لوگوں کی کوششوں اور جدوجہد کا نتیجہ ہے۔

یہ بات محمد باقر قالیباف نے آج بروز جمعہ ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے آج مسجد ابوذر میں حاضر ہوکر ایرانی  13ویں صدارتی انتخابات اور 6ویں شہري،ديہي اسلامي كونسلز (لوكل باڈيز) كے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتخابات ملک کا سب سے اہم سیاسی اور سماجی سرمایہ ہے اور بیلٹ بکسز ملک کی پائیدار سلامتی اور سیکورٹی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں شرکت کریں اور عوام کا شکوہ اور شکایت ٹھیک ہے اور معاشی مسائل کو حل کیا جانا چاہیے۔

آج صبح سات بجے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے و بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں تیرہویں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ہے اور کل دو بجے تک جاری ہوگا۔

ایران میں 59 ملین 3 لاکھ 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں عوام کی سہولت اور بھر پور شرکت کے پیش نظر 72 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ صدارتی انتخابات سے تین امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں  جن میں مہر علیزادہ، علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی شامل ہیں ۔ تین امیدواروں کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوجانے کے بعد اب چار امیدوار سید ابراہیم رئيسی ، محسن رضائی ، قاضی زادہ ہاشمی اور عبدالناصر ہمتی میدان میں موجود ہیں 

قابل ذکر ہے کہ دنیا کے 226 ذرائع سے تعلق رکھنے والے 500 غیر ملکی صحافی ایران میں ہونے والے 13 ویں صدارتی انتخابات اور شہری- دیہی اسلامی کونسلز کے چٹھے الیکشن کی کوریج کر رہے ہیں۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha