ایران میں بیلٹ باکس اور عوام کے مطالبات کا احترام کیا جاتا ہے: پاکستانی سینیٹر

اسلام آباد، ارنا- پاکستانی مسلم لیگ کے رہنما اور سینیٹ کے ممبر نے گزشتہ چار دہایئوں کے دوران، بہت سارے چیلنجز کے باوجود ایرانی عوام کی مزاحمت اور معاشرے کی طاقت کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلامی انقلاب کی قانونی حیثیت کی بنیاد بیلٹ باکس اور لوگوں کے مطالبات کا احترام ہے، جسے ایرانی حکومت نے ہمیشہ برقرار رکھا ہے۔

ان خیالات کا اظہار سینٹیر "مشاہد حسین سید" نے بدھ کے روز اسلام آباد میں تعینات ارنا نمائندے کیساتھ خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کی فتح کے بعد ایرانی عوام کو بہت نازک صورتحال کا سامنا ہوا جن میں سے ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ اور ایرانی نظام کے بڑے شخصیات کے قتل کا نام لیا جاسکتا ہے تا ہم ان سب نے ملک میں قیام جمہوریت اور انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں حائل نہیں کیں۔

مشاہد حسین نے کہا کہ اسلامی انقلاب نے ایران کو ایک طاقتور معاشرہ میں تبدیل کردیا ہے جس میں سب سے اہم پوینٹ؛ بیلٹ باکس اور عوام کے مطالبات کا احترام کرنا ہے۔

پاکستانی سینیٹ میں دفاعی امور کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم 1981ء میں آیت اللہ بہشتی اور ان کے 72 ساتھیوں کی شہادت کو نہیں بھولتے ہیں جو بانی اسلامی انقلاب حضرت امام خمینی (رہ) کی قیادت اور ایران کیخلاف آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے موقع پر ہوئی؛ اس موقع پر امام خمینی (رہ) نے اس بات پر زور دیا کہ سب سے پہلے اسلامی جمہوریہ کو وقت پر انتخابات کا انعقاد کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے تیرہویں صدراتی انتخابات کے انعقاد کے قریب ہیں اور اس وقت ہم ایک بار پھر ایران میں بیلٹ باکس اور عوام کے مطالبات کا احترام کرنے کو دیکھیں گے جو اسلامی انقلاب کے اصولوں سے جوڑا ہوا ہے۔

مشاہد حسین نے کہا کہ ایران میں آئندہ صدارتی انتخابات ایک بار پھر ملک میں ایک اہم موڑ کی حیثیت اختیار کریں گے اور ہمیں یقین ہے کہ یہ پارلیمانی ہو یا صدارتی انتخابات، ایرانی عوام اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تیرہویں صدراتی انتخابات کا 18 جون کو ملک بھر میں انعقاد کیا جائے گا۔

خیال رہے ایران گارڈین کونسل نے ہونے والے صدارتی انتخابات کیلئے سات امیدوارں کے ناموں کو 25 مئی کو منظوری دے دی؛ جن میں ایرانی عدلیہ کے سربراہ "ابراہیم رئیسی"، جوہری پروگرام کے سابق مذاکرات کار "سعید جلیلی"، پاسداران انقلاب فورسز کے سابق کمانڈر "محسن رضائی"، سابق رکن پارلیمان "علی رضا زاکانی"، موجودہ رکن پارلیمان "امیر حسین قاضی زادہ ہاشمی"، سابق ریاستی گورنر "محسن مہر علی زادہ" اور ایران کے مرکزی بینک کے موجودہ سربراہ "عبد الناصر ہمتی" کے نام شامل ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha