نیٹو اور جی 7 بیان بازی کے بجائے بین الاقوامی قانون پر عمل کریں: ایرانی ترجمان

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جی 7  اور نیٹو کیجانب  سے اشتعال انگیز بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نیٹو اور جی 7  کو بیان بازی کے بجائے بین الاقوامی قانون پر عمل کرنا ہوگا۔

یہ بات سعید خطیب زادہ نے منگل کے روز اپنے ذاتی ٹویٹر پیج پر شائع کردہ ایک پیغام میں لکھی۔

انہوں نے نیٹو اور سون گروپ کی جانب سے نقصان پہنچنے والی فریق اور تخریب کار فریق کی برابری کے انداز کو ایک ناقص سیاسی طرز عمل کی علامت کے طور پر قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین پر نیٹو اور جی 7 کے رکن ممالک کی پاسداری پر زور دیا۔

خطیب زادہ نے کہا کہ نیٹو اور جی 7 گروپ ہمارے خطے میں اپنے تباہ کن پس منظر کے ساتھ دوسروں خاص طور پر ایران جو خطے میں امن و سلامتی کا گہوارہ ہے،  کو مشاورت دینے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو اور جی 7 گروپ نقصان پہنچنے والی فریق اور تخریب کار فریق کو ایک دوسرے کے برابر سمجھتے ہیں جو یہ ایک ناقص اور سیاسی طرز عمل کی علامت ہے اور وہ دوسروں کو مشورہ دینے کے بجائے بین الاقوامی قانون پر قائم رہناچاہیے۔

سون گروپ کے رہنماؤں نے اپنے ایک بیان میں ویانا مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار کی تلاش میں نہیں ہے۔ ہم جامع مشترکہ ایکشن پلان (جوہری معاہدے) میں شریک افراد کے مابین کلیدی بات چیت اور ایران اور امریکہ کو اپنے وعدوں پر واپس لانے کے لئے الگ لگ گفتگو کا خیرمقدم کرتے ہیں۔

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس گروپ کا مقصد جوہری معاہدے میں عدم پھیلاؤ کے شعبے سے متعلق مفادات کی بحالی اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری پروگرام پرامن ہے۔

اس گروپ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام اقدامات سے باز رہیں جو شفافیت کو کم کرتے ہیں بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مکمل اور بروقت تعاون کو یقینی بنائے۔

جی سون کے ممالک کے سربراہوں نے اپنے بیان کے آخر میں خطے میں ایران پر پراکسی جنگوں کا الزام لگاتے ہوئے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ علاقائی امن و استحکام کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کرے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha