معاشی جنگ اور پابندیاں عائد کرنے والوں کے جرائم کی دستاویز شائع کی جانی ہوگی: ایرانی صدر

تہران، ارنا- ایرانی صدر نے کہا ہے کہ معاشی جنگ مسلط کرنے اور بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے کے جرائم کی دستاویز سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ پوری دنیا کو ایرانی قوم کیخلاف ٹرمپ انتظامیہ کے غیر انسانی جرائم سے آگاہی حاصل ہو۔

ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز منگل کو اقتصادی ہم آہنگی کے 233 ویں اجلاس کے دوران، گفتکو کرتے ہوئے کیا۔

اس اجلاس میں ملک کیخلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ، معاشی جنگ اور کورونا نقصانات کے بعد ملکی معیشت پر ان دونوں کے اثرات کے معاشی اشارے کی رپورٹ پیش کی گئی۔

 منعقدہ اس اجلاس میں معاشی جنگ کے دوران جی ڈی پی، لیکویڈیٹی، افراط زر، روزگار اور تجارتی توازن جیسے میکرو معاشی اشارے پر امریکی پابندیوں کے منفی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ کہ معاشی جنگ مسلط کرنے اور بڑے پیمانے پر پابندیاں عائد کرنے کے جرائم دستاویز سے عوام کو آگاہ کرنا ضروری ہے تاکہ پوری دنیا کو ایرانی قوم کےخلاف ٹرمپ انتظامیہ کے غیر انسانی جرائم سے آگاہی حاصل ہو۔

انہوں نے معاشی جنگ کے اثرات اور اس کے ٹریڈ ڈویلوپمنٹ اور عوام کی معاشی صورتحال پر اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انسانیت کیخلاف جرائم کو عام طور پر عوام کے ذہن میں جنگ اور فوجی تنازعہ کے مترادف دیکھا جاتا ہے، جبکہ پابندیوں اور معاشی جنگ کو بھی انسانیت کیخلاف خاموش جرم تسلیم کیا جانا ہوگا اور اس غیر انسانی حرکت کا نشانہ بننے والے ایران بھی پابندیاں عائد کرنے والوں کے جرائم کی دستاویز کو پوری دنیا کے سامنے پیش کرے گا۔

ایران صدر نے اس جنگ کیخلاف مقابلہ کرنے میں عوام کی مزاحمت اور حکومت کی اچھی مینجمنٹ سمیت پابندیاں عائد کرنے والوں کی شکست پر تبصرہ کیا اور کہا کہ ٹرمپ کے جرائم کی دستاویز جس نے ایک ملک اور قوم کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں حائل کیں اور لوگوں کی روزی روٹی اور یہاں تک کہ ان کے صحت اور علاج معالجے کو بھی نقصان پہنچا ہے، سمیت، معاشی جنگ سے نمٹنے کیلئے ایرانی عوام کی مزاحمت اور حکومت کی اچھی مینجمنٹ کی دستاویز کو بھی دنیا کے سامنے پیش کی جانی ہوگی۔

صدر روحانی نے کہا کہ پابندیاں عائد کرنے والوں نے تین سال گزرنے کے بعد، آج اپنی شکست کا اعتراف کیا اور یہ خود ایران کی اقتصادی جنگ کیخلاف فتح کی علامت ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha