ایران میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں 5 بڑے منصوبوں کا نفاذ کیا گیا

تہران، ارنا- ایران کے تین صوبوں بشمول ہرمزگان، ایلام اور کرمانشاہ میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں 5 بڑے منصوبوں کا صدر روحانی کی ہدایت سے نفاذ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق، ڈاکٹر "حسن روحانی" نے آج بروز جمعرات کو تدبیرو امید کی قومی مہم کے 71 ویں ہفتے میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہرمزگان، ایلام اور کرمانشاہ کے صوبوں میں بجلی اور پانی کے شعبوں میں 5 عظیم منصوبوں کے نفاذ کی ہدایت دی۔

جنوبی علاقے میناب میں 1400 میگاواٹ کے "سیریک" پاورپلانٹ کا ایگزیکٹو آپریشن، بندر عباس میں "ہنگام" مشترکہ سائیکل پاور پلانٹ کے دوسرے گیس یونٹ کا افتتاح، ایلام میں کنجانچم ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کا عمل، ایلام میں 2،750 ایکڑ کے رقبے پر اریکٹیکل پروجیکٹ کا نفاذ اور علاقے سرپل ذہاب میں 4 ہزار 50 ایکڑ کے رقبے پر نیٹ ورک اور نکاسی آب کا افتتاح؛ وہ دیگر منصوبے تھے جن کا صدر روحانی کی ہدایت سے نفاذ کیا گیا۔

تدبیر و امید کی قومی مہم کے 71 ویں ہفتے کے منصوبوں کے نفاذ پر مجموعی طور پر 41 ہزار 988 ارب تومان (ایرانی قومی کرنسی) سرمایہ کاری کی گئی ہے۔

ایرانی صدر نے جنوبی علاقے میناب میں 1400 میگاواٹ کے "سیریک" پاورپلانٹ کا ایگزیکٹو آپریشن کی تقریب میں ایران اور روس کے درمیان تعمیری تعاون پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے 8 سالوں میں، دونوں ممالک کے مابین مختلف شعبوں میں تعلقات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے اور میں اس حوالے سے روسی صدر "ولادیمیر پیوٹین" کی کوششوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ ایران اور روس نے شام، قفقاز اور آذربائیجان کے مسائل سے متعلق بہت اچھا اور تعمیری تعاون کیا ہے؛ یوریشیا کے میدان میں بھی روس اور ممبر ممالک کیساتھ ہمارے بہت اچھے تعاون ہیں اور ہم نے بحیرہ کیسپین کی قانونی حکومت کے میدان میں روس سمیت دوست ممالک کے ساتھ بہت اہم اقدامات اٹھائے ہیں۔

صدر روحانی نے ایران اور روس کے درمیان فوجی اور دفاعی شعبوں بشمول دو پاورپلانٹس کی تعمیر پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ ہمارے تعلقات پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہوچکے ہیں، اور حالیہ دنوں میں جوہری معاہدے کی بحالی کیلئے روس کیساتھ بھی کوششیں کی جارہی ہیں، اور روس کے اہم ہمسایہ ملک کیساتھ تعلقات کی ترقی دونوں ممالک سمیت خطے کے مفاد میں ہوگی۔

انہوں نے ایران میں پاور پلانٹس اور ریلوے سمیت مشترکہ منصوبوں کے نفاذ سے متعلق ایران اور روس کے مابین  تعاون کی یادداشت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے اس سمت میں سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں؛ البتہ توقع کی جاتی تھی کہ یہ منصوبے تھوڑا پہلے شروع ہوجاتے تھے لیکن کچھ دشواریوں کی وجہ سے یہ منصوبے تاخیر کا شکار ہوئے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha