ابھی بنیادی معاملات پر بات چیت باقی ہیں؛ اگلے ہفتے میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوگا

تہران، ارنا- ویانا جوہری مذاکرات میں اعلی ایرانی ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ مذاکرات کے نئے دور کا اگلے ہفتے میں آغاز ہوگا اور مذاکرات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں اب بھی کچھ اہم امور پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یقینا، اختلافات نئے امورسے متعلق نہیں بلکہ جوہری معاہدے میں فریقین کی واپسی کے طریقے سے متعلق ہیں۔

"سید عباس عراقچی" نے قومی سلامتی کونسل کے کمیشن کے ممبران سے اپنے اجلاس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آج بروز بدھ کو خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کونسل کے کمیشن کے اجلاس میں ویانا مذاکرات کی تازہ ترین صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ممبران پارلیمنٹ کے پاس بھی سوالات اور خدشات تھے، جن پر میں نے ضروری جوابات اور وضاحتیں پیش کیں۔

اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ وہ مذاکرات کے کسی دور کے خاتمے کے بعد ممبران پارلیمنٹ سے ملاقات کرتے ہیں جس سے پارلیمنٹ کے اراکین سے اچھا تعاون ظاہر ہوتا ہے؛ ان ملاقاتوں میں، ایسے نکات اٹھائے گئے ہیں جو مذاکرات کی پیشرفت میں مدد فراہم کرتے ہیں۔

عراقچی نے کہا کہ اب مذاکرات اس مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں اب بھی کچھ اہم امور پر فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اگلے ہفتے میں مذاکرات کے نئے دور کا آغاز کریں گے اور ہمیں امید ہے کہ مختلف موضوعات میں پیشرفت حاصل ہوجائے گی؛ لیکن یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ یہ مذاکرات کا آخری دور ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یقینا یہ اختلافات نئے امورسے متعلق نہیں بلکہ جوہری معاہدے میں فریقین کی واپسی کے طریقے سے متعلق ہیں۔

واضح رہے کہ ایران اور 1+4 گروہ کے نمائندوں کے درمیان جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے فریم ورک کے اندر مذاکرات کے پانچویں دور کا اختتام کیا گیا اور اگلے ہفتے کے دوران، مذاکرات کے چٹھے دور کا آغاز ہوگا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha