امریکہ نے جوہری معاہدے کی بحالی پر پختہ عزم کا مظاہرہ نہیں کیا ہے: ایرانی مندوب

تہران، ارنا- ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنز کے اجلاس میں جوہری معاہدے سے متعلق ایرانی وعدوں کے نفاذ کی نگرانی کے حوالے سے عالمی جوہری ادارے کے ڈائریکٹر کی حالیہ رپورٹ کی وضاحت کی۔

رپورٹ کے مطابق، "کاظم غریب آبادی" نے آج بروز بدھ کو آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں کہا کہ امریکہ نے ابھی بھی جبری یکطرفہ اقدامات کے نشے کو چھوڑنے، بین الاقوامی حقوق کا احترام کرنے، اچھے اور موثر طریقے سے ایران کیخلاف پابندیوں کی مکمل منسوخی سے متعلق اپنے وعدوں کے نفاذ اور اس حوالے سے سخت اور ضروری فیصلہ کرنے کے پختہ عزم کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب کیجانب سے اٹھائے گئے اہم موضوعات درج ذیل ہیں؛

1- ایران جوہری معاہدے سے امریکہ کی یکطرفہ علیحدگی، جوہری معاہدے سے متعلق اپنے کیے گئے وعدوں کیخلاف ورزی، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2231 کو غیر ذمہ دارنہ طور پر کمزور کرنے اور ایران کیخلاف "زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے" کی ناکام پالیسی سے 3 سال گزر گئے ہیں۔

2- سابق امریکی صدر نے اپنی حکومت کی قربان گاہ پر بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول؛ "عہد کو پورا کرنے کی ضرورت کے اصول" کو ذبح کردیا؛ بین الاقوامی قانون کیخلاف ورزی کرنے والی امریکی پابندیوں کی غیر معمول جہتوں نے حتی کہ اس کے یورپی دوستوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے روک دیا ہے۔

3- چونکہ پابندیوں کی منسوخی اور جوہری معاہدے میں ان کے اثرات کا حصہ، اس معاہدے پر ایران کی رضامندی کا بنیادی اصل ہے تو امریکہ کیجانب سے متعدد خلاف ورزیوں کی وجہ سے معاہدے کا یہ حصہ بے کار اور بے اثر رہا۔

4- ایک ایسے صورتحال میں ایرانی پارلیمنٹ میں 2 دسمبر 2020ء اور ایران کے مختلف معاشی شعبوں کیخلاف امریکی اقتصادی پابندیوں کے تسلسل و نیز تین یورپی ملکوں اور یورپی یونین کیجانب سے کوئی عملی اقدام نہ اٹھانے کی وجہ سے "پابندیوں کی منسوخی اور ایرانی قوم کے مفادات کی فراہمی کیلئے اسٹرٹیجک اقدامات اٹھانے" کے قانون کی منظوری کی گئی جس کے تحت ایرانی حکومت کو آئی اے ای اے کو سیف گارڈز سے پرے ایرانی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی کو روکنے پر اقدام اٹھانا پڑا۔

5- افسوس کی بات ہے کہ اس قانون کی ضروریات کو پورا نہیں کیا گیا اور اسی وجہ سے ایران نے ایڈیشنل پروٹوکول سمیت رضاکارانہ اقدامات کے نفاذ کو معطل کردیا؛ لیکن آئی اے ای اے سے نیت نیتی سے مذاکرات کے نتیجے میں ایک عارضی دو طرفہ تکنیکی معاہدہ جو ایرانی پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ قانون کے مطابق ہو، سے اتفاق کیا گیا جو 21 فروری 2021ء کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی مدت تک ہوگا۔

6- 24 مئی 2021 کو اس معاہدے کی مدت ختم ہونے کیساتھ ہی ایران نے اس بار تکنیکی معاہدے کی تجدید نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور ایران نے ایڈیشنل پروٹوکول سمیت رضاکارانہ کاروائی کے مسلسل خاتمے کا اعادہ کرتے ہوئے معلومات کی ریکارڈنگ کا زیادہ سے زیادہ ایک ماہ تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ اس نئے فیصلے کا مقصد ترقی کا ایک اور موقع فراہم کرنا اور بالآخر آئی اے ای اے کیساتھ دو طرفہ تکنیکی مذاکرات کو حتمی نتیجہ تک پہنچنا تھا؛ ایران نے ایک بار پھر ایک ایسے نئے موقع کا دروازہ کھولا جس کا استعمال سیاسی اور تکنیکی سطح پر ہونا ہوگا۔

7- ایران گزشتہ دو مہینوں سے اب تک سنجیدگی سے جوہری معاہدے کے فریقین سے مذاکرات کررہا ہے۔ مذاکرات کا پانچواں دور گزشتہ ہفتے میں ختم ہوا؛ لیکن یہاں اہم بات، ایران کیخلاف تمام پابندیوں کی منسوخی اور اس کی تصدیق کرنے کا مناسب طریقے نکالنے کی ہے تا کہ ایران کو ایک بار پھر اس معاہدے سے امریکی علیحدگی کے ابتر اثرات اور اس معاہدے کے قوانین میں موجود میکنزم کا غلط فائدہ اٹھانے یا تمام وعدوں کیخلاف ورزی کا سامنا نہ ہوجائے؛ امریکہ نے ابھی بھی جبری یکطرفہ اقدامات کے نشے کو چھوڑنے، بین الاقوامی حقوق کا احترام کرنے، اچھے اور موثر طریقے سے ایران کیخلاف پابندیوں کی مکمل منسوخی سے متعلق اپنے وعدوں کے نفاذ اور اس حوالے سے سخت اور ضروری فیصلہ کرنے کے پختہ عزم کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

8- اسلامی جمہوریہ ایران نے بھی بارہا کہا ہے کہ اگر ملک کیخلاف پابندیوں کی مکمل منسوخی ہوجائے تو وہ اپنے جوہری وعدوں پر پورا اترے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha