عمران خان کی حکومت کا ایران اور پاکستان کے مابین مذہبی سیاحت کو مستحکم کرنے پر زور

اسلام آباد، ارنا - پاکستانی وزیر خارجہ کے حالیہ دورہ ایران اور دونوں ممالک کے مابین پاکستانی شہریوں کے لئے ایران کے مقدس مقامات کا دورہ کرنے کو آسان بنانے سے متعلق مشاورت کے بعد اب تہران کے ساتھ اسلام آباد کی نئی پالیسی کے منصوبے کے مسودے کے بارے میں افواہیں آرہی ہیں جنہیں "زائرین مینجمنٹ پالیسی" کہتے ہیں۔

ارنا کے مطابق بدھ کے روز "شاہ محمود قریشی" 21 اپریل کو اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری دورے پر گئے جہاں انہوں نے اپنے ایرانی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ سرحدی منڈیوں کے قیام کے لئے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ باہمی تعاون خاص طور پر سیاحت اور مذہبی سیاحت کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔

انہوں نے مشہد مقدس کے دورے اور خراسان رضوی کے گورنر اور  تولیت آستان قدس رضوی کے ساتھ ملاقات میں پاکستانی حجاج کی اچھی مہمان نوازی کی بھی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی حکومت ایران ، عراق اور شام کے مقدس مقامات کی زیارت کے انتظام کے لئے جلد ہی ایک نئی پالیسی مرتب کرے گی اور کابینہ کے ممبروں کی منظوری کے بعد ، وہ ان ممالک کے ساتھ شیئر کرے گی۔

قریشی نے اپنے دورہ عراق اور عراقی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران کہا کہ زائرین مینجمنٹ کی نئی پالیسی کا مقصد خطے کے ممالک کے ساتھ مذہبی سیاحت کو مستحکم کرنا اور زیارتی سفروں کو آسان بنانا ہے۔

پاکستان نے نئی پالیسی کے مسودے کی منظوری کے لیے ایران سے رابطہ کیا

دریں اثنا ، پاکستانی اخبار نیشن نے منگل کے روز معتبر حکومتی ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ زائرین مینجمنٹ پالیسی کو پاکستانی کابینہ نے منظور کرلیا ہے اور اس ملک نے اسلامی جمہوریہ ایران کی حکومت کو اس پالیسی کے مسودے کو پیش کیا ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق پاکستان کی خارجہ کے اعلی حکام اور مذہبی عہدیداروں نے حال ہی میں ایران ، عراق اور شام میں اپنے ہم منصبوں سے مشورہ کیا اور اس کے بعد اسلام آباد حکومت کی نئی پالیسی پر مبنی معاہدہ کا مسودہ ان ممالک کو بھیجا گیا۔

اس اخبار نے لکھا کہ ایران، عراق اور شام کی حکومتوں کا جائزہ لینے اور اس مسودے پر اتفاق کرنے کے بعد پاکستان اور تینوں ممالک کے مابین ایک نیا معاہدہ طے پایا جائے گا۔

پاکستانی حکومت کی زائرین مینجمنٹ پالیسی میں کراچی اور گوادر کی بندرگاہ سے ایران اور عراق تک شپنگ لائن کے قیام کا ذکر کیا گیا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha