ویانا میں ایران ،روس اور چین کےدرمیان جوہری مذاکرات کا انعقاد

لندن، ارنا - ایران ، چین اور روس کے وفود کے سربراہان نے آج (پیر) آسٹرین کے دارالحکومت ویانا حوہری معاہدے کی مکمل بحالی کے بارے میں گہرے مذاکرات کے تسلسل میں ایٹمی معاہدے پر تبادلہ خیال کیا۔

ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں ایرانی کے دفتر نے  اپنی ٹویٹ  میں کیا کہ یہ ملاقات ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں نائب ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی ، ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں تعینات چینی 'وانگ کوآن' اور روسی 'میخائیل اولیانوف' سفیروں کے درمیان نشست کے انعقاد کا اعلان کیا

اس اجلاس میں ایران کے سفیر اور ویانا کی بین الاقوامی تنظیموں میں ایران کے مستقل نمائندے 'کاظم غریب آبادی' بھی شریک تھے۔

گذشتہ ماہ کے دوران برجام کے رکن ممالک کے سینئر سفارت کار ڈونلڈ ٹرمپ کے دور صدارت میں امریکہ کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کی بحالی کے لئے ویانا میں اکٹھے ہو چکے ہیں۔ ویانا مذاکرات کے نتائج کے بارے میں عالمی طاقتوں کے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

جوہری مذاکرات کا پانچواں دور منگل کو جوہری معاہدے کے جوائنٹ کمیشن کے اجلاس کی بحالی کے ساتھ شروع ہوا ہے۔

ویانا میں مقیم بین الاقوامی تنظیموں میں روس کے سفیر اور مستقل نمائندے نے گذشتہ روز اپنے ٹویٹر پیج پر لکھا ہے کہ مذاکرات کا موجودہ دور (پانچواں دور) شاید حتمی مرحلہ ہونا چاہئے اور اس وقت چھٹے دور کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

ایرانی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سعید خطیب زادہ نے آج بروز پیر کہا کہ ویانا کے مذاکرات میں کوئی تعطل نہیں ہے۔ مذاکرات میں اچھی پیشرفت ہوئی ہے اور اب مذاکرات کلیدی امور تک پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ویانا میں مذاکرات غور کے ساتھ جاری ہیں ۔ اگر کلیدی موضوعات حل ہوگئے تو مذاکرات کا موجودہ دور آخری دور بھی ہوسکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے، لیکن ہم ایٹمی مذاکرات کو غیر ضروری طول دینے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے  اور اگر مذاکرات کو تہران میں فیصلوں کی ضرورت ہوئے تو یقینا دارالحکومت میں ان پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

نئے امریکی صدر جو بائیڈن نے بورجام کی واپسی کو مشروط طور پر  قرار دیتے ہوئے وعدہ کیا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے پر مکمل تعمیل کرے تو واشنگٹن اس معاہدے میں واپس آئے گا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha