ایرانی سرکاری نیوز ایجنسی (ارنا) اور اسپوٹنک کی چوتھی پریس کانفرنس کا انعقاد

ماسکو، ارنا- ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی اور روسی خبررسان ادارے اسپوٹنک کے درمیان چوتھی ورچوئل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں تہران اور ماسکو کے مابین تعاون کا جائزہ لیا گیا۔

اسپوٹنک کے مطابق، منعقدہ اس ورچوئل کانفرنس میں ارنا نیوز ایجنسی کی خاتون صحافی اور روسی زبان کی مترجم "مریم انصاری"، اسپوٹنک نیوز ایجنسی کے شعبے غیر ملکی زبانوں کے سربراہ "ایوان زاخاروف" اور ارنا نیوز ایجنسی کے انگریزی شعبے کے صحافی "علی ایزدی" نے حصہ لیا تھا۔

اس موقع پر ایوان زاخاروف نے کہا کہ صدیوں میں کاراباخ علاقے میں رہائش پذیر آذربائیجان اور آرمینیا کے عوام کے درمیان پیچیدہ تعلقات، قوموں کے درمیان متعدد جنگوں اور کشیدگی کے باعث ہوئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کاراباخ پہاڑی علاقے کو تاریخی طور پر دنیا کے نقشے میں ایک مقبول مقام حاصل ہے؛ صدیوں کے دوران، کاراباخ کے عوام بہت ہی جلد، امن سے دور ہوکر جنگوں کا شکار ہوگئے؛ کیونکہ وہ دونوں ہی اس سرزمین کو اپنا اور اپنا سمجھتے ہیں؛ اور صرف 20 ویں صدی میں کاراباخ نے قوموں کے درمیان تین خونین جھڑپوں اور دو بڑے پیمانے پر جنگوں کا تجربہ کیا ہے۔

زاخاروف نے شام میں ایران، روس اور ترکی کے تین فریقی تعاون اور آستانہ امن عمل کے فریم ورک کے اندر ہونے والی کوشش کو مشرق وسطی میں قیام امن کا سب سے بڑا اقدام قرار دے دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف شام میں جنگ کی روک تھام اور دہشتگردی کیخلاف فتح اور دوسری طرف سفارت کاری کی عظیم فتح، روس کی خارجہ پالیسی کے اہم حصہ ہیں؛ جس کے سب سے اہم جزو اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور تنازعات میں اضافے کو روکنا ہے۔

زاخاروف نے یوریشین معاشی یونین کے فریم ورک کے اندر ایران سے تعاون کو انتہائی تعمیری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران، یوریشیا، مشرق وسطی اور مغربی ایشیاء کا ایک بہت بڑا ملک ہے جس کی آبادی 80 ملین ہے اور اس کی ایک متمول تاریخ اور ایک مضبوط فوج ہے؛ اور آج تک، ایران بھارت تک رسائی کیلئے ہماری واحد کلیدی حیثیت ہے، جس کے بغیر یوریشیائی انضمام کا مطلب روس کے ذریعے چین کو معاشی جذب کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایران کئی سالوں سے مغربی پابندیوں کا شکار ہے وہ مغرب جو ایشین کی بڑی کمپنیوں کی حمایت کرتا ہے اور اسے آذربائیجان سمیت خطے میں ترکی کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ سے متعلق بھی تشویش ہے۔

زاخاروف نے کہا کہ اسپوٹنک نیوز ایجنسی ایران جوہری معاہدے کی پوری خبروں کو اچھی طرح سے کوریج کرنے کی بھر پور کوشش کر رہی ہے۔

اس موقع پر ارنا کی خاتون صحافی انصاری نے جنوبی قفقاز میں قیام امن سے متعلق تعاون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران خطی کی جغرافیائی پوزیشن میں کسی بھی طرح کی تبدیلی کا مخالف ہے اور کاراباخ میں حالیہ کشیدکی کے پیش نظر، ایران اور روس کو فوجی خطرات سے متعلق مزید چوکس رہنا ہوگا جیسا کہ ایرانی عہدیدراوں نے اس علاقے میں تکفیری عناصر کی موجودگی پر وارننگ دی تھی۔

انہوں نے 2018 میں ایران اور یوریشین یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کو ایران کی معاشی صورتحال میں بہتری آنے کیلئے انتہائی تعمیری قرار دے دیا۔

در این اثنا ارنا نیوز ایجنسی کے انگریزی شعبے کے صحافی ایزدی نے ایران جوہری معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاہدہ کا 2016ء میں ایران اور گروہ 1+5 کے درمیان دستخط کیا گیا تاہم 2018ء میں ٹرمپ انتظامیہ کے زیر صدرات امریکی حکومت نے اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اختیار کرلیا جس کی وجہ سے ایران کیخلاف پابندیوں کا از سر نو نفاذ کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کے ایک سال گزرنے کے بعد ایران نے جوہری معاہدے کے اصولوں کے مطابق اپنے جوہری وعدوں میں کمی لانے کا اقدام کیا۔

ایزدی کا کہنا ہے کہ ایران نے اس بات پر زور دیا کہ اگر معاہدے کے دیگر فریقین اپنے وعدوں پر پورا اتریں اور امریکی پابندیوں کی منسوخی ہوجائے تو ایران بھی پچھلے کی صورتحال پر واپس آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ تمام فریقین، ویانا جورہی مذاکرات سے تعمیری نتائج نکلنے کیلئے پُر امید ہیں؛ لیکن ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ ان مذاکرات کو طویل بنانے یا تعلل کا شکار کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور ایران کا اس اجلاس میں شرکت کا مقصد ملک کیخلاف عائد پابندیوں کی منسوخی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha