ظلم اور جارحیت کے خلاف دفاع کرنا فلسطینیوں کا ناگزیر حق ہے: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا - اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے مظالم اور جارحیت کے خلاف مقابلے کرنے کو فلسطینیوں کا ناگزیر حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی مہلک خاموشی اور بے عملی نے اسرائیلی حکومت کو سنجیدگی سےانتہائی بربریت کے ساتھ مزید جرائم کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

یہ بات مجید تخت روانچی نے اتوار کے روز فلسطین میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کا جائزہ لینے سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ اس نشست کے ساتھ ہی اسرائیلی حکومت کی وحشی فورسز فلسطین میں خاص طور پر غزہ کی پٹی جو دنیا کی سب سے بڑی کھلی ہوئی جیل ہے میں ایک حقیقی قتل عام کر رہی ہے ، جس کے نتیجے میں اب تک 192 افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، جن میں 58 بچے اور 34 خواتین شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ بزدلانہ بے دفاع خواتین کو قتل کرتے ہیں۔ بچوں کو بے دردی سے ہلاک کرتے ہیں، بے شرمی سے مقدس مقامات کی توہین کرتے ہیں۔ رہائشی علاقوں ، اسکولوں اور صحت کے مقاماب پر بزدلانہ بمباری کر رہے ہیں۔ اور ایک لفظ میں ، بیک وقت چاروں بڑے بین الاقوامی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے مزید کہا کہ "سوال یہ ہے کہ اسرائیلی فوجیں ایسے جرائم کیوں کرتی ہیں؟" کیونکہ فلسطینیوں نے اسرائیلی افواج جو اپنی آبائی زمینوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں ،کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔

انہوں نے اس سوال کہ، بہت لمبے عرصے سے سلامتی کونسل اس طرح کے جرائم ، دھمکیوں اور جارحیت کے باوجود خاموش کیوں ہے، کے جواب میں کہا کہ جواب آسان ہے؛ کیونکہ امریکہ سلامتی کونسل کے مستقل ممبر کی حیثیت سے اسرائیلی حکومت کی کسی بھی کارروائی کی حمایت کی ہے اور اب تک انہوں نے اسرائیل کے خلاف سلامتی کونسل کی  قرارداد کے 44 مسودوں کو ویٹو کیا ہے۔

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha