افغانستان میں ایران کی 3۔5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ابتدائی معاہدہ طے پایا گیا

تہران، ارنا- ایرانی وزیر برائے مواصلات اور شہری ترقی کے ڈپٹی برائے افغانستان کے امور نے کہا ہے کہ افغانستان میں تکنیکی اور انجینئرنگ خدمات کی برآمد اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے نفاذ کے شعبوں میں ایران کی 3۔5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ابتدائی معاہدہ طے پایا گیا۔

"سید حسن میر شفیع" نے مزید کہا کہ ان انتظامات کے تحت، ایران افغانستان میں سرگرم کمپنیوں اور نفاذ ہونے والے منصوبوں کی تفصیلات پر مذاکرات کے ایک حصے کے طور پر، افغانستان کے نقل و حمل اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں اور تکنیکی انجینئرنگ خدمات کی برآمد میں 5.3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مکانات بنانے کے شعبے میں بھی ایک مفاہتمی یادداشت مرتب کرنے پر کام جاری ہے جس سے نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچوں سمیت ایران کے نجی سیکٹر، افغانستان کے تعمیراتی شعبوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔

میر شفیع نے کہا کہ اس سرمایہ کارکے تحت، نئے شہروں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کابل، ہرات، مزارشریف اور قندھار جیسے بڑے شہروں میں اونچی عمارتوں کی تعمیر میں بھی ممکن ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے مفاہمت کی یادداشت کا مسودہ تیار کیا گیا ہے جس کا سفارتی حکام کے ذریعے تعاقب کیا جا رہا ہے اور تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ایرانی سرمایہ کار افغان کمپنیوں کے تعاون سے 5 ہزار سے 10 ہزار تک کے گھروں کی تعمیرکریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ شمالی افغانستان میں ہرات- مزارشریف ریلوے منصوبہ ایرانی کمپنیوں کے ذریعے مکمل کئے جانے والے منصوبوں میں سے ایک ہے؛ یہ ریل روٹ ایران، وسطی ایشیا اور چین کے مابین ریل رابطے کی سہولت فراہم کرسکتا ہے۔

میر شفیع کا کہنا ہے کہ اس ریل روٹ 656 کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے اور ایران کے نجی شعبے نے اس منصوبے پر 2۔2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

ایرانی وزیر برائے مواصلات اور شہری ترقی کے ڈپٹی برائے افغانستان کے امور نے کہا کہ ایران نے افغانستان کے نقل و حمل کے شعبے میں 1۔3 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواف- ہرات ریلوے کی تکمیل کئی سالوں سے رک گئی تھی؛ لیکن حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے صدور نے اس کا افتتاح کیا؛ ایرانی اور افغان تاجروں نے اس ریلوے کے آپریشنل کی خوب پذیرائی کی۔ دونوں ممالک کے ریلوے سربراہوں کے درمیان اب راہداری، سیکیورٹی اور تکنیکی ضمانتوں کو آسان بنانے کے انتظامات کیے گئے ہیں، جن پر بالآخر دونوں ممالک کے ریلوے سربراہوں کو دستخط کرنے کی ضرورت ہے۔

میر شفیع نے کہا کہ ایک اور اہم سرحدی ٹرمینل جو ایران کے زابل کو افغانستان کے نیمروز خطے سے جوڑتا ہے وہ میلک کی سرحد ہے؛ اس ٹرمینل کی زیادہ ٹریفک، ایک بارڈر پل کو عبور کرتی ہے، جس کی وجہ سے بارڈر کے دونوں اطراف ٹرکوں کی نقل و حرکت میں تاخیر ہوتی ہے اسی وجہ سے اس سرحدی خطے میں دونوں ممالک کی مشترکہ سرمایہ کاری سے دوسرا پل تعمیر کیا جانا تھا، اور اس معاہدے پر جلد عمل درآمد کیا جائے گا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha