جوہری معاہدے کے نفاذ سے ایران اور سوئٹزرلینڈ کی تجارتی صلاحیت 10 ارب ڈالر تک پہنچے گی

تہران، ارنا- ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ چیمبر آف کارمس کے سربراہ نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کی بحالی سے دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی صلاحیت 10 ارب ڈالر تک پہنچے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سوئٹزرلینڈ سے تجارتی تعلقات کی بحالی کیلئے تجارتی وفدوں کی تیاریاں کر رہے رہیں اور ایران میں سوئس تاجروں کی سرگرم ہونے پر تیار ہیں۔

"شریف نظام مافی" نے جمعہ کے روز ارنا نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور سویٹزرلینڈ کے درمیان دہائیوں سے اچھے تعلقات قائم ہیں اور حتی کہ مقدس دفاع کے دوران، سوئٹزرلینڈ ان ممالک میں سے تھے جس نے ایران کی مدد کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون مزید بڑھ جائے گا اور ویانا جوہری مذاکرات میں کامیابی سے ایران کی سوئٹزرلینڈ میں برآمدات کا اضافہ ہوگا۔

ایران-سوئٹزرلینڈ کے مشترکہ چیمبر آف کامرس کے سربراہ نے کہا کہ ہم سوئٹزرلینڈ میں گیس اور ضروری مصنوعات کو پوری کرسکیں گے اور اس کے مقابلے میں وہ صحت اور زراعت کے میدان میں ایران کی ضروریات کو پوری کر سکتا ہے۔

ان کے مطابق، سامان اور خدمات کی تجارت میں ایران اور سوئٹزرلینڈ کے مابین تعاون ہے۔ لہذا؛ اگر جوہری معاہدے پر عمل درآمد کیا گیا تو اسے جلد ہی حاصل کیا جاسکتا ہے، کیونکہ قدرتی گیس کی فروخت اور براہ راست فراہمی کے شرائط  مہیا ہونے سے دونوں ممالک درمیان معاشی تعلقات میں ایک بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ  پابندیوں کے خاتمے سے سوئٹزرلینڈ کیساتھ تجارت کے حجم میں کئی گنا اضافہ ہوتا ہے اور اس معاملے میں، بلاک شدہ رقم سے ہم ملک کو درکار صنعتوں کو درآمد کرسکتے ہیں اور پیداواری کمزوریوں کو ختم کرنے کیلئے موجودہ ٹکنالوجیوں کو جدید بنا سکتے ہیں۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha