دہشتگرد حملوں کا مقصد افغان حکومت کو کمزوری کی پوزیشن میں قرار دینے کے سوا کچھ نہیں ہے: ایرانی صدر

تہران، ارنا- اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر مملکت نے دارالحکوکت کابل کے حالیہ دہشتگردانہ حملوں میں افغان حکومت اور عوام سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز اور نہتے افغان شہریوں کیخلاف دہشتگرد گروہوں کے حملوں کے تسلسل کا مقصد، امن مذاکرات میں افغان حکوکمت کو کمروزی کی پوزیشن میں قرار دینے کے سوا کچھ نہیں ہے۔

ڈاکٹر "حسن روحانی" نے بدھ کے روز "اشرف غنی" سے ایک ٹیلی فونک رابطے کے دوران، اس بات پر زور دیا کہ ہم، افغاستان کی سلامتی کو اپنی ہی سرزمین کی سلامتی سمجھتے ہیں اور افغان حکومت کی قیادت اور افغان عوام کی اتفاق رائے سے امن عمل کی حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا اہم جزؤ سمجھتے ہیں اور افغانستان میں قیام امن و سلامتی کیلئے کسی بھی کوشش سے دریغ نہیں کریں گے۔

ایرانی صدر نے کہا کہ طالبان کے سامنے امریکہ کا موقف یہ ہے کہ وہ اپنے ہی مسائل کا حل کرے اور وہ افغان حکومت اور عوام کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان امن عمل میں اقوام متحدہ کا فعال کردار، افغان عوام اور علاقائی ممالک کیخلاف بڑی طاقتوں کی یکطرفہ پالیسیوں کے تسلط کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔

صدر روحانی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، اقوام متحدہ کی حکمت عملی اور تجاویز کے فریم ورک کے اندر علاقائی اتحاد کے قیام پر تعاون میں تیار ہے۔

انہوں نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ باہمی جامع تعاون کے معاہدے کو حتمی شکل دینے سے دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کا مزید فروغ ہوگا۔

 ایرانی صدر مملکت نے افغان حکومت اور عوام کو عیدالفطر کی آمد پر مبارکباد دی۔

دراین اثنا افغان صدر نے کابل دہشتگردی حملے میں ایران کیجانب سے افغان حکومت اور عوام سے ہمدردی کا اظہار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس دہشتگردی حملے کے نتیجے میں 85 سے زائد افراد شہید جبکہ 200 زخمی ہوگئے ہیں۔

غنی نے کہا کہ ایران، افغانستان کا دوست اور برادر ملک ہے جو ہر حال میں افغان حکومت اور عوام کیساتھ کھڑا ہے۔

افغانستان کے صدر مملک نے دونوں ملکوں کے درمیان تمام شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha