ایران اور پڑوسی ملکوں کے درمیان بجلی تبادلہ کا فروغ

تہران، ارنا- ایرانی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کے جدید تر قومی ترسیل مرکز کی اعلی سطح کی حفاظت ہے اور اس پر بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری کی گئی ہے اسی وجہ سے یہ ہمسایہ ممالک سے توانائی کے تبادلے میں انتہائی قابل قدر کردار ادا کرتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار "رضا اردکانیان" نے آج بروز منگل کو 345 ارب تومان (ایرانی قومی کرنسی) کی سرمایہ کاری پر مشتمل بجلی کی صنعت کی نگرانی کے مرکز کی افتتاحی تقریب کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کا افتتاح، بجلی کی صنعت کا سب سے بڑا اقدام ہے، جس نے پچھلے مرکز کی 30 سال کی سرگرمیوں کے بعد، آج اس نئے مرکز کا قیام عمل میں لایا ہے

وزیر توانائی نے کہا کہ جدید قومی ٹیکنالوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے اور اس کی تعمیر میں 11 سال کی مستقل کاوشوں کے بعد بجلی کی جدیدتر قومی ترسیل کے مرکز کو آج عمل میں لایا گیا ہے اور یہ بجلی کے نیٹ ورک کے بہتر اور موثر انتظام میں بہت اہم کردار ادا کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کے جدید تر قومی ترسیل مرکز کی اعلی سطح کی حفاظت ہے اور بڑے پیمانے پر اس پر سرمایہ کاری کی گئی ہے اسی وجہ سی سے یہ ہمسایہ ممالک سے توانائی کے تبادلے میں انتہائی قابل قدر کردار ادا کرتا ہے۔

ایرانی وزیر توانائی نے حالیہ دنوں میں کہا تھا کہ فی الحال ہمسایہ ملکوں سے تقریبا 3 ہزار 500 میگاواٹ بجلی کے تبادلے کی صلاحیت ہے جو منصوبہ بندیوں کے مطابق 10 ہزار میگاوات تک پہنچنے کا امکان ہے۔

انہوں نے ہمسایہ ملکوں سے بجلی کے تبادلے میں اچھے اور تعمیری اقدامات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اب یہ تبادلہ اب ان تمام ممالک کیساتھ ممکن ہے جن کیساتھ  ہماری زمینی سرحدیں ہیں۔

انہوں نے 2019ء میں ایرانی اور عراقی کے بجلی نظام کی ہم وقت سازی سمیت آرمینیا- جارجیا اور آذربائیجان کے دو راستوں کے ذریعے ایرانی اور روسی کے بجلی نظام کی ہم وقت سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں سے جو جلدی سے نتیجے تک پہنچ جائے اس کا نفاذ کیا جائے گا۔

اردکانیان نے کہا کہ ایران- آذربائیجان- روس کا راستہ ایک قابل حصول راستہ ہے، اور تینوں ممالک کی رضامندی سے، ایرانی مشاورتی انجینئروں کو اس کام کے مطالعے، اور متعلقہ معاہدہ تیار کرنے کیلئے منتخب کیا گیا ہے اور اس پر کام جاری ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ جلد از جلد نفاذ ہوجائے گا۔

انہوں نے کہا کہ روس اور عراق کیساتھ مذاکرات کے عمل کے ساتھ ساتھ، ایران - افغانستان مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کی ذمہ داری کو وزارت توانائی میں منتقل کرنے کے پیش نظر، افغان فریق کیساتھ بات چیت بھی شروع ہوگئی ہے اور تجاویز اور منصوبوں کی وضاحت کی گئی ہے۔

 ایرانی وزیر توانائی نے کہا کہ ہمارا ارادہ ہے کہ بر سرکار حکومت کے دوران، کابل میں کمیشن کا اجلاس منعقد کرکے افغانستان اور حکومت کی موجودہ صورتحال میں بھی، مذاکرات کا اختتام کریں تاکہ توانائی کا تبادلہ ممکن ہوسکے۔

انہوں نے اس حوالے سے پچھلے سالوں میں قطر کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے  کہا کہ ایران - قطر مشترکہ اقتصادی تعاون کمیشن کی ذمہ داری بھی وزارت توانائی کو سونپی گئی ہے۔

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha