ایران اور عالمی جوہری ادارے کے درمیان تعاون بڑھانے کا امکان ہے

تہران، ارنا- جاپانی ویب سائٹ "این ایچ کی" نے نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے سیاسی امور کے مطابق کہا ہے کہ ویانا جوہری مذاکرات کے سلسلے میں ملک کی جوہری تنصیبات کی نگرانی کیلئے ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون بڑھانے کا امکان ہے۔

ان خیالات کا اظہار "سید عباس عراقچی" نے جاپانی ویب سائٹ این ایچ کی کے نمائندے کیساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ ویانا جوہری مذاکرات میں کافی پیشرفت حاصل ہوگی تا کہ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت نہ ہو۔

واضح رہے کہ امریکی وزیر خارجہ کی خاتون نائب "وندی شرمن" نے حالیہ دنوں میں اٹلانٹک کونسل تھنک ٹینک کیساتھ  گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ویانا جوہری مذاکرات میں پیشرفت نظر آئی ہے لیکن ابھی اس راستے میں بہت سارے کام باقی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ فریقین کے درمیان مفاہمت سے بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کیساتھ تکنیکی معاہدہ جو مئی کے آخر میں ختم ہوجاتا ہے میں توسیع کی جاسکیں گے۔

 عراقچی نے اس امید کا اظہار کرلیا کہ ویانا میں موجودہ مذاکرات میں خاطر خواہ پیشرفت کیساتھ، آئی اے ای اے کی ایرانی جوہری تنصیبات کی نگرانی کی آخری تاریخ میں توسیع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی لیکن اگر ضرورت ہو تو تہران مقررہ مدت میں توسیع دینے  پر غور کرے گا۔

این ایچ کی کے مطابق تہران نے کہا ہے کہ اگر ویانا جوہری مذاکرات میں پابندیوں کی منسوخی اور دیگر مسائل سے پیشرفت حاصل نہ ہوجائے تو 31 مئی میں ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون ختم ہوجائے گا۔

این ایچ کی نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ عراقچی اور عالمی جوہری ادارے کے سربراہ رافائل گروسی نے جمعرات کو ویانا میں ملاقات اور اس حوالے سے گفتگو کی ہے۔

گروسی نے اپریل مہینے کے دوران کہا تھا کہ اگر ویانا مذاکرات میں جوہری فریقین کے درمیان مفاہمت نہ ہوجائے تو شاید اس حوالے سے ایران سے دوبارہ مذاکرات کی ضرورت ہو۔ 

**9467

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha