مغرب کو مشرق کے ساتھ ایران کے تعلقات کی ترقی پر تشویش ہے

تہران، ارنا - ایک طرف سے چار دہائیوں سے ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اور تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ اور دوسری طرف سے ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں یورپی فریق کی نا اہلی نے تہران کو پہلے سے کہین زیادہ اپنے پڑوسیوں اور چین اور روس کی طرف دھکیل دیا ہے جو مغرب اس رجحان کے تسلسل سے خوفزدہ ہے۔

اسلامی جمہوریہ کے بارے میں مغرب کی معاندانہ پالیسی کی وجہ سے تہران نے آہستہ آہستہ اپنی توجہ کو مشرق کی طرف منتقل کردیا ہے اور خود کو یوروپ اور امریکہ سے دور کر رہا ہے۔

اب 25 سالہ تہران - بیجنگ اسٹریٹجک تعاون کے دستاویز پر دستخط کرنے کے ساتھ ، مغرب پہلے میں اس معاہدے کو ناکام دکھانا اور دوسرے مرحلے میں تہران کے قریب جانے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم مغرب یہ سمجھتا ہے کہ ایران اور چین کے مابین اس طرح کے معاہدوں سے اسلامی جمہوریہ پر عائد پابندیوں کا بوجھ کم ہوجائے گا اور ایران پر ٹرمپ انتظامیہ کے زیادہ سے زیادہ دباؤ کو بے اثر کردیا جائے گا۔

چین ان ممالک میں شامل تھا جس نے تہران پر امریکی دھمکیوں اور مغربی دباؤ کے باوجود اس پالیسی پر عمل نہیں کیا۔ مبصرین کے مطابق ، ایران کی معیشت میں چین کا ایک اہم کردار ہے اور تہران کی خارجہ تجارت کا 25 فیصد بیجنگ کے ساتھ ہے ۔

چین کے علاوہ ایران کے بھی روس کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور ایران اور روس دونوں توانائی پیدا کرنے والے ہیں اسی لیے دفاعی شعبے باہمی تعاون کر سکتے ہیں۔

قرارداد 2231 کے تحت ایران پر اسلحے کی پابندیوں کے خاتمے کے بعد چین اور روس ایران کے حق کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں شامل تھے۔ انہوں نے بائیڈن انتظامیہ میں تہران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ کی شکل میں ٹرمپ کی طرف سے عائد پابندیوں کو ختم کرنے اور جوہری معاہدے میں امریکی واپسی کے لئے کلیدی کردار ادا کیا۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha