اسرائیلی ریاست کو کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کو قبول کرنے پر مجبور ہونا چاہئے: ایرانی مندوب

نیویارک، ارنا - اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق کنونشن کے مکمل ، موثر اور غیر امتیازی سلوک پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی ریاست کو اس کنونشن کو قبول کرنے پر مجبور ہونا چاہئے۔

یہ بات مجید تخت روانچی نے جمعرات کےروز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق اپنے خطاب میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی مقاصد پر مبنی تنازعات نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کے کنونشن اور تنظیم کی ساکھ کو مجروح کیا ہے۔

کہا کہ کچھ ممالک نے اپنے قومی اہداف کو آگے بڑھانے کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق کنونشن کو غلط استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ کیمیکل ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم  کو سیاسی استعمال کیا ہے جو یہ کثیرالجہتی کے چیلینجز میں سے ایک ہے۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے ان اقدامات سے اس کنونشن کو سنجیدگی سے مجروح کیا گیا ہے، کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کو قانونی حیثیت اور اعتماد کے بحران کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس سے رکن ممالک کے مابین اختلافات پیدا ہوگئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران معاصر تاریخ میں کیمیائی ہتھیاروں کا شکار ہونے والا بڑا ملک ہے اور ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ہم کسی بھی جگہ ، کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha