امریکہ کو ٹرمپ کی ناکام میراث اور جوہری معاہدے کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا: ایرانی ترجمان

تہران، ارنا – ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ویانا مذاکرات کی فضا کو سست لیکن مثبت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر کو ٹرمپ انتظامیہ کی ناکام میراث پر قائم رہنا یا ان پالیسیوں سے دور ہونا اور جوہری معاہدے کی طرف واپسی کے درمیان ایک کو انتخاب کرنا چاہئے۔

یہ بات سعید خطیب زادہ نے آج بروز جمعہ این بی سی امریکی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام کے ساتھ انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے ویانا مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مذاکرات کی فضامثبت ہے اور اگرچہ پیشرفت سست اور آہستہ ہے لیکن مسودہ سازی کا مرحلہ اور فریقین کے مابین اب بات چیت شروع ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکی صدر کو ٹرمپ انتظامیہ کی ناکام میراث کی پاسداری کرنے یا ان پالیسیوں سے خود کو دور کرنے اور جوہری معاہدے کے وعدوں کی طرف لوٹنے کے درمیان انتخاب کرنا ہوگا۔

٭٭امریکہ کے ساتھ براہ راست یا بالواسطہ بات چیت کی ضرورت نہیں ہے

انہوں نے امریکہ سے براہ راست بات چیت اور بات چیت کی رفتار کو تیز کرنے اور ہونے والی پیچیدگیوں کو کم کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ویانا میں جو کچھ ہورہا ہے جوہری معاہدے کے مشترکہ کمیشن کے سہ ماہی اجلاس کا انعقاد ہے ، نہ کہ ایران اور امریکہ کے مابین ملاقات۔ ایران اور 4 + 1 گروپ اور یوروپی یونین معاہدے کے کوآرڈینیٹرز کے طور پر اس بات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں کہ وہ فریق جس معاہدے سے علیحدہ ہوگیا ہے اب کیسے اپنے وعدوں پر عمل اور ممکنہ طور پر اس معاہدے میں واپس آسکتا ہے۔

ہمیں اس ٹوئٹر لینک پر فالو کیجئے. IrnaUrdu@

https://twitter.com/IRNAURD

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha